اسلام آباد: مذہبی جماعت کے گرفتار 87 کارکنان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے مذہبی جماعت کے گرفتار 87 کارکنان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کردی۔
عدالت نے ملزمان کی شناخت پریڈ کیلئے 14 دن کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کیا تھا، شناخت پریڈ کا عمل مکمل نہ ہونے پر جوڈیشل ریمانڈ میں 3 نومبر تک توسیع کردی گئی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس پر سماعت کی، تفتیشی افسر نے عدالت میں ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی درخواست دائر کی۔
مذہبی جماعت کے کارکنان پر 2021 میں پولیس اہلکاروں پر تشدد ودیگر الزمات ہیں، عدالت نے 8 اکتوبر کو شناخت پریڈ کیلئے ملزمان کو جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
ملزمان کو 14 دن کیلئے شناخت پریڈ پر جیل بھیجا گیا تھا، تھانہ ترنول کے 2021 میں دائر مقدمہ میں ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جوڈیشل ریمانڈ میں شناخت پریڈ
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔