لاہور میں مذہبی جماعت کے 954 پرتشدد مظاہرین گرفتار، جدید ٹیکنالوجی سے شناخت ممکن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
لاہور پولیس نے حالیہ پرتشدد مظاہروں میں ملوث مذہبی جماعت کے954 مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں سے متعدد کی گرفتاری جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ٹریسنگ کی مدد سے عمل میں لائی گئی۔
پولیس کے مطابق، شہر بھر میں سرچ آپریشنز جاری ہیں اور مفرور افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ساڑھے تین ہزار کے قریب افراد کو ٹارگٹ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے جو مظاہروں کے دوران پولیس اور سرکاری املاک پر حملوں میں ملوث پائے گئے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ رضوی برادران کی گرفتاری جلد عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انتہاپسند جتھوں کےپوسٹرز اور تشہیر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ ٹی ایل پی کی مالی معاونت کرنے والوں کی فہرست بھی تیار کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پرپابندی عائد کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اب یہ معاملہ وزارتِ قانون کو بھجوایا جائے گا، جو اس پابندی کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرے گی۔
سپریم کورٹ کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان ٹی ایل پی کو ڈی نوٹیفائی کرے گا، جس کے نتیجے میں جماعت پر باضابطہ پابندی نافذ ہو جائے گی۔
ذرائع کے مطابق، کابینہ کی منظوری کے بعد 15 دن کے اندر پابندی سے متعلق ریفرنس سپریم کورٹ میں جمع کرایا جائے گا، اور حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
ادھر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاہور اور دیگر شہروں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں، اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔