کسی بھی جماعت پر پابندی سے نتائج حاصل نہیں ہوئے،بیرسٹر عمیر نیازی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251025-08-3
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر عمیر خان نیازی نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی کو اگر قومی دھارے سے نکال دیں گے تو کیا وہ ختم ہوجائے گی؟ کسی
بھی جماعت پر پابندی سے نتائج حاصل نہیں ہوئے، یہ جن کو ملزم کے کٹہرے میں کھڑا کررہے خود بھی اسی کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی سے متعلق عوام میں ایک تاثر اور بیانیہ بن رہا تھا کہ وہ کیوں نکلے؟ جب فلسطین کا مسئلہ حل ہوگیا ہے تو پھر کیوں نکلے؟ اگر سیاسی معاملے کو سیاسی انداز میں حل کرتے تو 10دن بیٹھے رہتے تو عوام کی رائے بالکل تبدیل ہوتی اور صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔دوسری جانب وفاقی مشیرسیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی جماعت کو ختم کرنا کسی پابندی کا مقصد نہیں ہوتا بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس جماعت میں دہشتگردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں جو کہ ملک کے وجود ، لوگوں کی جان ومال کے خلاف ہوں، ان سرگرمیوں کو ختم کرنا مقصد ہوتا ہے۔ٹی ایل پی کے مذہبی نظریات سے کوئی تنازع نہیں ہے لیکن جب بھی ٹی ایل پی نے احتجاج کو شروع کیا، وہ سب کے سامنے ہے کہ کس قسم کے واقعات ہوئے، 2017کے پرتشدد احتجاج کے واقعات بھی سب کے سامنے ہیں، کتنی جانوں کا نقصان ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹی ایل پی
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔