تحریک لبیک پر پابندی کیلئے کافی مواد موجود تھا، رانا ثناء
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی کے لیے کافی مواد موجود تھا۔
جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ اس تنظیم نے راستے میں جگہ جگہ املاک کو نقصان پہنچایا، جو تنظیم ایسی کارروائی میں ملوث ہو تو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے 30 دن کے اندر متعلقہ جماعت اپیل کرسکتی ہے، نظر ثانی کی اپیل کے بعد پابندی برقرار رہے تو پھر عدالت جاسکتے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ اس سے پہلے بھی اس جماعت نے یقین دہانی کرائی تھی لیکن پوری نہ کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے جو پہلی تقریر کی، اس میں کہا کہ عشق لیڈر میں مارا جاؤں گا، یہ تو وزارت اعلیٰ کےلیے آئے ہی نہیں وہ تو خودکشی کےلیے آئے ہیں۔
رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ سہیل آفریدی کو یہ دکھایا جانا چاہیے تھا کہ اس طرح ہوا میں نہیں اڑتے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی پیر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوجائے گی۔ سہیل آفریدی جب بانی پی ٹی آئی سے پوچھ کر کابینہ بنائیں گے تو ایک اور مسئلہ ہوجائے گا۔
ن لیگی سینیٹر نے کہا کہ نواز شریف سمیت ہم سب نے کبھی ان کو جیل میں تکلیف دینے کی بات نہیں کی، مفتاح اسماعیل ہمارے بھائی ہیں، وہ تو اسحاق ڈار کے شاگردوں میں سے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پنجاب بلدیاتی ایکٹ میں کوئی یہ بات دکھا دے کہ انتخابات غیرجماعتی ہوں گے، ایکٹ میں ایسا کہیں نہیں لکھا۔ کمیٹی کا کنوینر تھا مسودہ پڑھا ہے ایکٹ میں ایسی چیز نہیں، جو یہ بات کررہے ہیں وہ ایکٹ کو پڑھے بغیر ہی کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب بلدیاتی انتخابات سے متعلق مسودے میں غیرجماعتی الیکشن کا کوئی ایکٹ نہیں، عدالت کا فیصلہ ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو الیکشن سے نہیں روکا جاسکتا۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ یونین کونسل سے میئر تک کسی جماعت کو نہ روکا گیا ہے نہ روکا جاسکتا ہے، یہ تاثر بالکل غلط ہے، کسی جماعت کو اس ایکٹ میں بلدیاتی انتخابات سے نہیں روکا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء نے کہا کہ ایکٹ میں
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔