الیکشن کمیشن نے کوئی سرٹیفیکٹ جاری کیے بغیر پی ٹی آئی پر پابندی کیسے لگائی؟ بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سوال کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سرٹیفیکٹ جاری نہیں ہوا تو پی ٹی آئی پر کیسے پابندی لگائی گئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پر پابندی کے بارے میں ابھی تک الیکشن کمیشن نے ہمیں کوئی سرٹیفکیٹ نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی سرٹیفیکٹ جاری نہیں ہوا تو پھر الیکشن کمیشن نے کیسے پی ٹی آئی پر پابندی عائد کردی۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پی ٹی آئی بلوچستان نے لوکل گورنمنٹ انتخابات کے لیے اپنا کوئی امیدوار میدان میں نہیں اتارا جبکہ ہم نے الیکشنز میں سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگانے سے کام نہیں چلے گا، دو سال بعد بھی ہم اگر نو مئی پر کھڑے ہین تو یہ ملک کے لیے بد قسمتی کی بات ہے کیونکہ 25 کروڑ عوام ایوان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور انہیں بہتری کی امید بھی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقات پر کوئی بھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے، سیاسی اور جمہوری قوتیں بات چیت کرتی ہیں تو حالات بہتر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپ نے عالمی جنگیں لڑیں ،مگر آج یورپ میں ایک ہی کرنسی اور پاسپورٹ ہے، مگر کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں، کچھ فارم 47 والے بھی نہیں چاہتے کہ حالات بہتری کی طرف جائیں۔
بیسٹر گوہر نے کہا کہ بہت وقت سے ایک دوسرے پر الزام لگائے جارہے ہیں اب اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے اور سیاست میں ہمیشہ دروازے کھے رکھنے چاہیئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن پی ٹی ا ئی پر پابندی نے کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔