پاکستان پیپلزپارٹی کی ترجمان شازیہ مری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ہمیں تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہمارا مقصد ملک میں مزید مسائل پیدا کرنا نہیں ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران شازیہ مری نے کہا کہ پولیو وائرس ہمارے بچوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، اور سندھ بھر میں پولیو سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، تاہم بدقسمتی سے آج بھی ملک میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
انہوں نے زراعت کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ کسان مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا، کیونکہ زراعت ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ صدر آصف علی زرداری ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ زراعت کو مضبوط کرنا ضروری ہے، اور اگر کسانوں پر توجہ نہ دی گئی تو نقصان صرف کسی حکومت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوگا۔
پیپلزپارٹی کی ترجمان نے کہا کہ کسانوں کو مضبوط بنانے سے ملک کی معیشت مضبوط ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ (ن) لیگ کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اور پی ایس ڈی پی (قومی ترقیاتی منصوبہ) کو مشترکہ طور پر بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
شازیہ مری نے مزید کہا کہ اگر بند کمروں میں پی ایس ڈی پی تیار کی جائے تو یہ ناانصافی ہوگی۔ وفاقی حکومت نے ہمیں تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ملک کے مزید مسائل پیدا ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شازیہ مری کہا کہ

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن