شازیہ مری: وفاق نے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی، مزید مسائل پیدا کرنا ہمارا مقصد نہیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
پاکستان پیپلزپارٹی کی ترجمان شازیہ مری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ہمیں تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہمارا مقصد ملک میں مزید مسائل پیدا کرنا نہیں ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران شازیہ مری نے کہا کہ پولیو وائرس ہمارے بچوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، اور سندھ بھر میں پولیو سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، تاہم بدقسمتی سے آج بھی ملک میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
انہوں نے زراعت کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ کسان مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا، کیونکہ زراعت ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ صدر آصف علی زرداری ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ زراعت کو مضبوط کرنا ضروری ہے، اور اگر کسانوں پر توجہ نہ دی گئی تو نقصان صرف کسی حکومت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوگا۔
پیپلزپارٹی کی ترجمان نے کہا کہ کسانوں کو مضبوط بنانے سے ملک کی معیشت مضبوط ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ (ن) لیگ کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اور پی ایس ڈی پی (قومی ترقیاتی منصوبہ) کو مشترکہ طور پر بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
شازیہ مری نے مزید کہا کہ اگر بند کمروں میں پی ایس ڈی پی تیار کی جائے تو یہ ناانصافی ہوگی۔ وفاقی حکومت نے ہمیں تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ملک کے مزید مسائل پیدا ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔