لاہور: مذہبی جماعت کے 108 کارکنوں کے جسمانی ریمانڈ میں 9 دن کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مذہبی جماعت کے کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت درج مقدمات کی سماعت کی۔
اے ٹی سی لاہور کے جج عرفان حیدر نے کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے ایک ملزم سہیل کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا جس کے حوالے سے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزم سہیل راہ گیر ہے، پولیس کو مطلوب نہیں۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے آئندہ سماعت پر مقدمے کا چالان طلب کرلیا۔
دورانِ سماعت پولیس نے ملزمان کو 12 دن کے جسمانی ریمانڈ کے بعد عدالت میں پیش کیا اور ان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
تھانہ نواں کوٹ میں ملزمان کے خلاف قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ درج ہے۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے 2 افراد کو قتل اور کئی اہلکاروں کو زخمی کیا تھا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے پولیس پر فائرنگ اور ڈنڈے سوٹوں سے تشدد بھی کیا۔
عدالت نے تفتیشی افسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے 108 مذہبی جماعت کے کارکنوں کے جسمانی ریمانڈ میں 9 دن کی توسیع کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مذہبی جماعت کے عدالت نے
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔