خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں لگایا جائے گا ، طلال چوہدری کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کر دیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں لگایا جائے گا ۔
پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے ، آئینی طور پر وفاقی حکومت کے پاس گورنر راج کا اختیار موجود ہے مگر وفاقی حکومت ایسا اقدام نہیں اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خلوصِ نیت کے ساتھ صوبائی پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کیں لیکن اس معاملے کو سیاسی رنگ دے دیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ بعض حلقے دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کے خلاف ہیں۔وزیرِ مملکت نے کہا "سہیل بزدار" کو سوچ سمجھ کر تعینات کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے مدارس یا مساجد کی بندش کو پروپیگنڈہ قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ اگر بلٹ پروف گاڑیاں قابلِ قبول نہیں تو وزیراعلیٰ اپنی ذاتی گاڑی پولیس کے حوالے کر دیں۔طلال چوہدری نے کہا کہ آرٹیکل 148 کے تحت صوبائی حکومت فیصلوں میں مکمل طور پر آزاد نہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پورے ملک کی جنگ ہے، اس لئے وزیراعلیٰ تبدیلی سے اس جنگ میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر خیبرپختونخوا پولیس کو جدید گاڑیاں فراہم کی گئیں اور وفاقی حکومت نے مالی مشکلات کے باوجود امداد کی فراہمی جاری رکھی جبکہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
الیکشن کمیشن میں بڑے پیمانے پر تقرر وتبادلے، نوٹیفکیشن جاری
وزیرِ مملکت نے خبردار کیا کہ اس "بچگانہ" فیصلے سے کسی کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتاہے اور اگر کوئی جانی نقصان ہوا تو اس کے ذمہ دار متعلقہ حکام ہوں گے، صوبائی حکومت نے پولیس کے جوانوں کو موثر تحفظ فراہم نہیں کیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ