چمن اور طورخم بارڈر سےہزاروں غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد بدستور بند ہے البتہ آج چمن اور طورخم بارڈر سے ہزاروں غیرملکیوں کو ان کے ملک واپس بھیجنے کا خصوصی انتظام کیا گیا۔ چمن بارڈر سے ایک روز میں 10 ہزار700 افغان مہاجرین کو افغانستان واپس بھیج دیا گیا۔
غیر قانونی مقیم افغانوں کی واپسی طورخم سرحد سے بھی شروع ہو گئی۔ اب تک تقریباً 15 لاکھ 60 ہزار افغانوں کو افغانستان واپس بھیجا جا چکا ہے۔
بھارتی نژاد دنیا کی معروف کمپنی کو اربوں کا چونا لگا کر فرار
ذرائع کے مطابق چمن بارڈر سے ایک روز میں 10 ہزار700 افغان باشندوں کوافغانستان واپس بھیجا گیا۔
ذرائع نے بتایاکہ افغان باشندوں کی واپسی کے لئے چمن اور طورخم کی سرحد کے راستے 20 روز بند رہنے کے بعد آج کھولے گئے ۔ بارڈر گیٹ سے صرف افغان باشندوں کو واپس بھیجنے کا کام کیا گیا۔ اس کے سوا کوئی آمدورفت نہیں ہوئی۔
ذرائع نے بتایا کہ اب تک تقریباً 15 لاکھ 60 ہزار افغان باشندوں کی واپسی ہو چکی ہے، افغان باشندوں کی واپسی قانونی طریقہ کار کے تحت کی جا رہی ہے اور ہر شخص کے دستاویزات کی تصدیق کے بعد سرحد عبور کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان فیصلہ کن ٹی ٹونٹی میچ آج ہوگا
واپس جانے والے افغان باشندوں کے لیے طورخم اور چمن بارڈر گیٹ پر ایف سی، سول انتظامیہ کی جانب سے رہائش اورکھانے کا انتظام کیا گیا۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: افغان باشندوں کی واپسی
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔