Islam Times:
2026-07-24@03:58:58 GMT

ایران کیخلاف پابندیوں کے بارے ٹرمپ کا نیا دعوی

اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT

ایران کیخلاف پابندیوں کے بارے ٹرمپ کا نیا دعوی

ایران کیخلاف پابندیوں کو "انتہائی سخت" قرار دیتے ہوئے انتہاء پسند امریکی صدر نے دعوی کیا ہے کہ تہران نے واشنگٹن سے "پابندیوں کے خاتمے" کا مطالبہ کیا ہے اسلام ٹائمز۔ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران "سخت ترین" اور "شدید ترین" اقتصادی پابندیوں کی زد میں ہے۔ وسطی ایشیا کے 5 ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے دعوی کیا کہ تہران نے واشنگٹن سے "پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ" کیا ہے۔ روسی خبررساں ایجنسی اسپتنک کے مطابق، انتہاء پسند امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے پوچھا ہے کہ کیا پابندیاں اٹھائی جا سکتی ہیں یا نہیں؟.

. البتہ مَیں اس بارے سننے کو تیار ہوں! 
  رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ایران "انتہائی سخت" اور "شدید ترین" امریکی پابندیوں کی زد میں ہے اور ان پابندیوں نے ایران کی اقتصادی ترقی میں "شدید رکاوٹ" ڈال رکھی ہے۔ یہ دعوی کرتے ہوئے کہ پابندیوں نے ایران کے لئے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا بہت ہی مشکل بنا دیا ہے، ٹرمپ نے مزید کہا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے.. لیکن میں اسے قبول کر لوں گا..!

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی صدر کیا ہے

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل