پاکستان نے ایل این جی سے متعلق قطر کو آئندہ کاپلان دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251105-08-23
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قطر سے درآمدی ایل این جی سرپلس ہونے کے معاملے میں پاکستان نے قطری حکام کو آئندہ سال کی طلب کا پلان دے دیا۔ذرائع وزارت پیٹرولیم نے کہا کہ پاکستان میں2026ء کے لیے 29 کارگوز موخر کرنے کی تجویز پیش کردی، قطری حکام نے31 دسمبر تک پاکستان کی تجویز کا جواب دینا ہے۔حکام کے مطابق معاہدے کے تحت پاکستان قطر سے سالانہ 108 کارگوز منگواتا ہے۔ ذرائع وزارت پیٹرولیم نے کہا کہ پاور سیکٹر کی طلب کم ہونے کے باعث پاکستان نے 2026ء کے لیے 79 کارگوز تجویز کیے ہیں، آئندہ سال مئی سے اکتوپر تک 18 کارگوز موخر کرنے کا پلان قطری حکام کو دے دیا گیا۔ذرائع نے کہا کہ جنوری سے اپریل تک 11 کارگوز موخر کرنے کا پلان دیا گیا ہے، اگر قطر نے پلان نہ مانا تو کوٹے کے مطابق درآمدی ایل این جی کارگوز منگوانے پڑیں گے۔حکام وزارت پیٹرولیم نے کہا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان طویل المدتی درآمدی ایل این جی کا معاہدہ 2031ء تک ہے، معاہدے کے تحت پاکستان قطر سے ماہانہ 9 درآمدی ایل این جی کے کارگوز منگواتا ہے، معاہدے کے تحت آئندہ سال کا پلان ایڈوانس دینا پڑتا ہے۔حکام نے کہا کہ رواں سال درآمدی ایل این جی گیس کے گھریلوکنکشنز پر پابندی اٹھائی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: درا مدی ایل این جی نے کہا کہ کا پلان
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔