پاکستان نے درآمدی ایل این جی سے متعلق قطری حکام کو آئندہ سال کی طلب کا پلان دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
قطر سے درآمدی ایل این جی سرپلس ہونے کے معاملے میں پاکستان نے قطری حکام کو آئندہ سال کی طلب کا پلان دے دیا۔
ذرائع وزارت پیٹرولیم نے کہا کہ پاکستان میں 2026 کے لیے 29 کارگوز موخر کرنے کی تجویز پیش کردی، قطری حکام نے 31دسمبر تک پاکستان کی تجویز کا جواب دینا ہے۔
حکام کے مطابق معاہدے کے تحت پاکستان قطر سے سالانہ 108 کارگوز منگواتا ہے، ذرائع وزارت پیٹرولیم نے کہا کہ پاور سیکٹر کی طلب کم ہونے کے باعث پاکستان نے 2026کے لیے79کارگوز تجویز کیے ہیں، آئندہ سال مئی سے اکتوپر تک 18کارگوز موخر کرنے کا پلان قطری حکام کو دیدیا گیا۔
ذرائع نے کہا کہ جنوری سے اپریل تک گیارہ کارگوز موخر کرنے کا پلان دیا گیا ہے، اگر قطر نے پلان نہ مانا تو کوٹے کے مطابق درآمدی ایل این جی کارگوز منگوانے پڑیں گے۔
حکام وزارت پیٹرولیم نے کہا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان طویل المدتی درآمدی ایل این جی کا معاہدہ 2031تک ہے، معاہدے کے تحت پاکستان قطر سے ماہانہ نو درآمدی ایل این جی کے کارگوز منگواتا ہے، معاہدے کے تحت آئندہ سال کا پلان ایڈوانس دینا پڑتا ہے۔
حکام نے کہا کہ رواں سال درآمدی ایل این جی گیس کے گھریلوکنکشنز پر پابندی اٹھائی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درآمدی ایل این جی قطری حکام نے کہا کہ کا پلان
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔