آئندہ 5 برسوں میں شرح خواندگی 90 فیصد تک بڑھانے اور ہر بچے کے اسکول داخلے کے لیے پرعزم ہیں: آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہمارا وژن جامع اور پائیدار ترقی ہے، آئندہ 5 برسوں میں شرح خواندگی 90 فیصد تک بڑھانے اور ہر بچے کے اسکول داخلے کے لیے پرعزم ہیں۔
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دوسری عالمی سماجی ترقیاتی کانفرنس سے خطاب کے دوران صدرِ مملکت آصف زرداری نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد پر قطر کی بصیرت افروز قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، قطر میں اسرائیلی جارحیت کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ اجلاس سماجی انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے لیے عزم کا اظہار کرتا ہے، ہم ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں سماجی ہم آہنگی، مساوات، یکجہتی اور انسانی حقوق کا احترام ہو۔
آصف زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) 90 لاکھ سے زائد خاندانوں کو مالی امداد، صحت اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے، ہمیں فخر ہے کہ یہ پروگرام دنیا بھر میں مثالی سماجی تحفظ کا ماڈل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سماجی ترقی کے لیے منصفانہ، جامع اور متوازن عالمی مالیاتی نظام ناگزیر ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری یہ بھی کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی عالمی قوانین کے منافی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: صف علی زرداری کے لیے
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔