خورشید شاہ کے خلاف کرپشن کیس نیب سے ایف آئی اے منتقل
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
سکھر کی احتساب عدالت نے پیپلزپارٹی رہنماؤں خورشید شاہ، اویس شاہ ودیگر کے خلاف کرپشن کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا۔ کیس نیب سے ایف آئی اے کو منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ ان کے بھتیجے و داماد اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس شاہ، بیٹوں ایم پی اے فرخ شاہ، زیرک شاہ، دو بیویوں سمیت اٹھارہ ملزمان کے خلاف نیب کی جانب سے دائر اثاثہ جات کیس کی سماعت سکھر کی احتساب عدالت میں ہوئی۔ جج غلام یاسین کولاچی نے سماعت کے دوران گذشتہ سماعت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت نے خورشید شاہ ودیگر پر دائر ریفرنس نیب کے دائر کار سے باہر ہونے پر ریفرنس ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ کے صاحبزادے سید زیرک شاہ اور ان کے وکلاءعدالت میں پیش ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خورشید شاہ
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔