لاہور (خبر نگار) ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے پیش نظر اتوار کے روز کمرشل سرگرمیاں مکمل بند کرنے کی تجویز دے دی۔ عدالت نے مارکیٹیں رات دس بجے اور ریسٹورنٹس رات گیارہ بجے بند کرنے کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ  ایک دو ماہ یا چار ہفتے ایسا کرنا پڑے گا۔ شادی ہالز بھی پورے دس بجے بند ہونے چاہیئں۔ شادیوں پر ون ڈش کی خلاف ورزی بھی ہورہی ہے لیکن اس کا ماحولیات سے تعلق نہیں۔ 2023ء کے نوٹیفکیشن کے مطابق مارکیٹیں دس بجے بند ہوں گی لیکن اس کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ نوٹیفکیشن پر پر عملدرآمد کرائیں۔ شہر میں پانچ منٹ کے لیے بھی ٹریفک بند نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت نے ڈی سی لاہور کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے شہر میں واسا کے تعمیراتی پروجیکٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا واسا کے پروجیکٹ کب ختم ہوں گے؟ واسا کے پروجیکٹ شروع ہوتے ہیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، پائپ لائن ڈالنے کا پروجیکٹ لمبا نہیں ہونا چاہیے، بڑے بڑے پائپ لا کر چھ ماہ پہلے سڑکوں پر رکھ دیئے اس وجہ سے حادثات ہورہے ہیں، یہ کیا طریقہ کار، پورے لاہور میں اتنی مٹی کر دی گئی ہے جس کی کوئی حد نہیں، اتنی مٹی میں سموگ گن کیا کام کرے گی؟۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہر بندہ اپنی ذمہ داری ادا کرے یہ میرا اکیلے کا کام تو نہیں، واسا اپنے سارے پروجیکٹس کی تمام تفصیلات عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے محکمہ ماحولیات کو واسا اور ایل ڈی اے کے پروجیکٹس میں خلاف ورزیوں پر جرمانے کرنے کی ہدایت کردی۔ خلاف ورزیاں کرنے والے محکموں کو بھاری جرمانے کریں، جمعہ کو آپ نے بتانا ہے کہ آپ نے کن پروجیکٹس پر کس محکمے کو کتنا جرمانہ کیا؟۔ کیس کی مزید سماعت 7 نومبر کو ہوگی۔ دریں اثناء ضلعی انتظامیہ نے لاہور میں سموگ کے تدارک کیلئے 2023 والا فارمولا اپنا لیا۔ لاہور میں مارکیٹیں پیر تا ہفتہ رات 10 بجے بند ہوں گی۔ اتوار کو دوپہر 2 سے رات 10 بجے تک مارکیٹوں کے اوقات کار ہوں گے۔ ریسٹورنٹ و کیفے رات 11 بجے بند کرنا ہوں گے۔ ریسٹورنٹ جمعہ، ہفتہ، اتوار رات 12 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ ہوم ڈیلیوری کی رات 2 بجے تک کی اجازت ہو گی۔ میڈیکل سٹورز، تندور، دودھ کی دکانیں، ہسپتال، لیبارٹریوں، پٹرول پمپ اور پنکچرز شاپس کو استثنی حاصل ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق پہلے سے جاری نوٹیفکیشن کی موجودگی میں نئے نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: لاہور میں عدالت نے ہوں گے

پڑھیں:

لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی

لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔

ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ