27ویں ترمیم آئینی ہے اور نہ ہی جمہوری، یہ کسی کو فائدہ دینے کیلیے ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
پشاور میں بی آر ٹی کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی بانی پی ٹی آئی کا تحفہ ہیں ہم اس منصوبے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم نہ آئینی اور نہ ہی جمہوری ہے، یہ کسی کے فائدلے کیلیے لائی جارہی ہے۔ پشاور میں بی آر ٹی کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی بانی پی ٹی آئی کا تحفہ ہیں ہم اس منصوبے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے ضلع خیبر تک بی آر ٹی بس سروس کو بڑھانے کا اعلان کیا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ میں خود جائزہ لینے آیا ہوں، نئے روٹس جس میں باڑہ کا روٹ کے بھی شامل ہے شروع کررہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ پچاس بسیں منگوائی گئی ہیں جبکہ مزید 50 بسیں منگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا 27 ویں آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ طاقتور تو پہلے سے ہی طاقتور ہیں، یہ ترمیم کسی کے فائدہ کیلیے لائی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم کے ذریعے آئین اور جمہوریت کو روندا جارہا ہے، جتنے بھی طاقتور لوگ آئے انہوں نے آئین کو پامال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی کا کہنا ہے کہ آپریشن میں کسی کا فائدہ نہیں، پہلے دن سے جب وہ وزیر اعلی بنا تب سے میرے خلاف منفی پروپیگنڈا جاری ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ میرا لیڈر کہتا ہے کہ ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں کیونکہ اس میں جزا اور سزا نہیں ہوتی، ملٹری آپریشن اور بند کمروں میں فیصلے نہیں ہونے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بارہ نومبر کو امن وامان کا جرگہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں قبائلی علاقے سے پہلا وزیراعلیٰ ہوں، میری کردار کشی دراصل قبائلی عوام کی کردار کشی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے بی آر ٹی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔