مسلح افواج کے ترجمان کی سخت نیوز کانفرنس کا پی ٹی آئی صوبائی حکومت سے "ردعمل" آگیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
سٹی42: پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت نے آج پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان کی نیوز کانفرنس میں بہت سیدھے الفاظ میں بیان کی گئی شکایات کا کوئی اثر نہیں لیا اور اس کے بالکل برعکس عمل کرتے ہوئے 9 مئی 2023 کو ریاست کے اداروں اور قومی علامات پر پر تشدد حملوں کے مقدمات کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے۔
سہیل آفریدی کی کابینہ نے 9 مئی کو پاکستان کے ریاستی اداروں، بشمول ریڈیو پاکستان پشاور پر حملوں اور مردان مین قومی علامت کرنل شیر خان کے مجمسہ کو توڑنے پھوڑنے سمیت متعدد سنگین جرائم کے مقدمے ختم کر دینے کی منظوری دی اور "نو مئی کو تشدد کے واقعات" کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی۔
جعلی ملازمتوں کی پیشکش، ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والوں کو خبردار کردیا
پشاور میں ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمان خیل نے سہیل آفریدی کی کابینہ کے اجلاس کے بعد نیوز چینل کے نمائندہ کو بتایا ، " صوبائی کابینہ اجلاس میں 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی گئی ہے اور صوبائی کابینہ کی منطوری ملنے کے بعد اب 51 مقدمات میں ریاست دستبردار ہوگی۔"
ایڈووکیٹ جنرل ک شاہ فیصل اتمان خیل نے بتایا," 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ "
اس سال اب تک سب سے زیادہ فروخت ہونیوالا اسمارٹ فون کونسا ہے؟
نو مئی 2023 کو پاکستان پر سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتہائی خوفناک منظم حملے کئے گئے تھے، پنجاب میں ان حملوں میں ملوث افراد کے خلاف فوراً ہی قانونی کارروائی کا آغاز ہو گیا اور 10 مئی 2023 سے ہی گرفتاریاں شروع ہو گئیں، ڈھائی سال کے دوران پولیس نے ہزاروں گھنٹے پر مشتمل تحقیقات کے ساتھ ان مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے درجنوں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا اور عدالتوں نے ان کو قرار واقعی سزائین سنائیں۔
قائد اعظم ٹرافی کا فائنل؛ کراچی بلوز نے 218 رنز سے سیالکوٹ کو مات دیدی
نو مئی 2023 کے حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان پشاور اور خیبر پختونخوا کے شہروں مین ہوا تھا۔ خیبر پختونخوا میں ان حملوں کے وقت بھی پی ٹی آئی کی صوبائی ھکومت تھی، اس کے بعد بھی اب تک پی ٹی آئی کی ہی حکومت رہی، پی ٹی آئی کی ھکومت نے ایک بھی مقدمہ کو عدالت کے فیصلہ تک نہیں پہنچایا، آج سہیل آفریدی کی کابینہ نے 51 سنگین جرائم کے مقدمات ختم کرنے کی ہی منطوری دے دی۔
خیبر پختونخوا حکومت کے اٹارنی جنرل نے بتایا کہآج کابینہ کے اجلاس وزیر اعلیٰ نے انہیں خصوصی طور پر طلب کیا تھا۔
Currency Exchange Rate Friday December 05, 2025
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل نے 51 مقدمات واپس لینے کی سفارشات کابینہ کے اجلاس میں پیش کیں، پی ٹی آئی کےرہنماؤں اور کارکنوں کو 9 اور 10 مئی کو ہونے والے حملوں کے چشم دید گواہ پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی تحقیقات اور دستیاب ویژیول شواہد کی بنیاد پر مقدمات میں ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ ان مقدمات کا اب تک عدالت میں پہچنچنا ہی ممکن نہین ہوا۔ ان مقدمات میں سزا کی صورت میں پی ٹی آئی کے متعدد ارکان اسمبلی اور سینئیر رہنماؤں قید کی سزاؤں اور سیاست کے لئے نااہل ہونے کا خدشہ ہے۔
سونے اور چاندی کے آج کے ریٹس ۔جمعہ 05 دسمبر ، 2025
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا پی ٹی ا ئی کی کی منظوری
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز