خیبرپختونخوا حکومت کا 9مئی کے مزید 57مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
خیبرپختونخوا حکومت کا 9مئی کے مزید 57مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 December, 2025 سب نیوز
پشاور(سب نیوز)خیبرپختونخواحکومت نے 9 مئی کے مزید مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے محکمہ قانون خیبرپختونخوا نے 57 کیسز ختم کرنے کی سفارشات صوبائی کابینہ کو ارسال کر دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد پی ٹی آئی اراکین اسمبلی مقدمات میں نامزد ہیں، سزا کی صورت میں نااہلی کا خدشہ موجود ہے، صوبے میں 9 مئی کے درجنوں کیسز نمٹا دیئے گئے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل آفس کی جانب سے مقدمات واپس لینے کی باضابطہ سفارش تیار کر لی گئی ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارشات پر حتمی فیصلہ صوبائی کابینہ اجلاس میں ہوگا، کابینہ منظوری کے بعد عدالتوں میں مقدمات واپس لینے کی کارروائی شروع کی جائے گی، ریاست مقدمات سے دستبرداری کی منظوری کے بعد دعویداری ختم کر دے گی۔
حکومتی معاون خصوصی شفیع اللہ جان کے مطابق علی امین گنڈاپور کی حکومت میں بھی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے منظوری لے کر ریاست مقدمات سے دستبردار ہو چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام کیسز سیاسی اور انتقامی بنیادوں پر بنائے گئے تھے، جتنے بھی کیسز ہیں انصاف کے تقاضوں پر پورے نہیں اترتے، ایسے بے بنیاد اور من گھڑت کیسز کو ختم کیا جانا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی،اراکین کا سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا پر عدم اعتماد کا اظہار پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی،اراکین کا سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا پر عدم اعتماد کا اظہار ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے یکجہتی کیلئے اسلام آباد بار نے کل ہڑتال کا اعلان کردیا سندھ کو جی ایس ٹی کی ذمہ داری دیں تو ہدف سے زیادہ ٹیکس جمع کرسکتے ہیں، بلاول بھٹو کی پیشکش ایف ای ڈی حکام نے وفاقی حکومت کے ہفتہ وار دو چھٹیوں کے حوالے سے احکامات نظر انداز کر دیے،ہفتہ کو بھی تعلیمی ادارے... وزیر ریلوے حنیف عباسی کی مداخلت سے بزنس کمیونٹی اور اسلام آباد انتظامیہ کے درمیان محاذ آرائی ختم کروڑوں روپے کی عدم ادائیگی، روس نے پاکستان پوسٹ کی خدمات پر پابندی عائد کر دی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔