دنیا کے کم عمر ترین وائس چانسلر کا اعزاز پاکستان کے پاس
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) گینز ورلڈ ریکارڈز نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) کے وائس چانسلر محمد شاہ زیب اعوان کو دنیا کے کم عمر ترین مرد یونیورسٹی چانسلر کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔29 سالہ شاہ زیب اعوان کے لیے یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کی علامت ہے بلکہ پاکستان کی نئی قیادت اور ابھرتے ہوئے تعلیمی رجحانات کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ شاہ زیب اعوان نے بتایا کہ این آئی ٹی ایک وفاقی رجسٹرڈ چارٹرڈ ادارہ ہے جو اپنی تعلیمی شراکت داری کے ذریعے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے نئے رجحانات متعارف کرا رہا ہے۔ یہ شراکت داری امریکا کی معروف اور جدت پسند ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ساتھ قائم ہے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
آکسفورڈ یونیورسٹی مباحثہ پاکستانی طلبا نے دو تہائی اکثریت سے جیت لیا
آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والا پاک بھارت مباحثہ پاکستانی طلبا نے واضح برتری سے اپنے نام کرلیا ہے۔
مباحثے کا موضوع یہ تھا کہ بھارتی پالیسی پاکستان کے لیے واقعی قومی سیکیورٹی کا معاملہ ہے یا پھر یہ عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے ایک سیاسی نعرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر احسن اقبال کی بڑی کامیابی، آکسفورڈ یونین کے تاریخی مکالمے میں اپنا مؤقف منوا لیا
پاکستانی ٹیم کی قیادت اسٹوڈنٹس یونین کے صدر موسیٰ ہراج نے کی، جبکہ بھارتی طلبا مباحثے کے دوران پوچھے گئے اہم سوالات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔
ڈیبیٹ ہال میں ووٹنگ کے دوران پاکستانی ٹیم کو 106 اور بھارتی ٹیم کو صرف 50 ووٹ ملے۔
نتیجتاً پاکستانی طلبا نے پاک بھارت مباحثہ دو تہائی اکثریت سے جیت کر اپنی برتری ثابت کردی۔
بھارت کی راہ فراراس سے قبل اس مباحثے میں بھارتی وفد عین وقت پر دستبردار ہوگیا تھا، بھارتی رہنماؤں کی اجتماعی پسپائی کے بعد پاکستان کو آکسفورڈ یونین میں بلامقابلہ فتح مل گئی، یہ اعلان پاکستان ہائی کمیشن لندن کی جانب سے کیا گیا تھا۔
ہائی کمیشن کے مطابق آکسفورڈ یونین میں طے شدہ مباحثے کے لیے بھارت کی جانب سے جنرل ایم ایم نروا، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اور سچن پائلٹ کے نام فائنل تھے، تاہم تینوں مقررین نے عین وقت پر شرکت سے انکار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا آکسفورڈ یونین مباحثے سے فرار، پاکستان کی بڑی فتح
اس کے بعد بھارتی وفد کی جانب سے چند غیر معروف اور کم درجے کے مقررین کی پیشکش کی گئی، جسے آکسفورڈ یونین نے مباحثے کے معیار کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا۔
پاکستانی وفد میں جنرل (ر) زبیر محمود حیات، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور ڈاکٹر محمد فیصل لندن میں مباحثے کے لیے موجود تھے۔ ہائی کمیشن کے مطابق بھارتی اعلیٰ سطحی مقررین کی دستبرداری نے نہ صرف مباحثے کی ساکھ متاثر کی بلکہ جامعہ آکسفورڈ کو بھی خفت سے دوچار کیا۔
مباحثے کی قرارداد یہ تھی کہ ’بھارت کی پاکستان پالیسی محض عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمت عملی ہے‘ اور بھارتی وفد اسی بحث سے راہِ فرار اختیار کرتا دکھائی دیا۔ ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ بھارتی وفد کی عدم شرکت نے غیر جانبدار علمی فورم پر بھارتی بیانیے کی کمزوری کھل کر بے نقاب کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر منتخب ہونے والے ولیم ہیگ کون ہیں؟
پاکستان ہائی کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی رہنما میڈیا پر بلند آہنگ بیانات تو دیتے ہیں مگر علمی دلائل اور مکالمے کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ آکسفورڈ میں طلبہ کی اکثریت بھارتی ہونے کے باوجود بھارتی پینل نے ووٹنگ اور براہِ راست سوالات کا سامنا کرنے سے انکار کیا۔
پاکستانی سفارتکاروں کے مطابق بھارت کی نام نہاد سیکیورٹی پالیسی ممکنہ منطقی سوالات کا وزن نہ اٹھا سکی اور مباحثہ شروع ہونے سے پہلے ہی بھارتی وفد نے خود کو تنقید اور جواب دہی سے بچانے کے لیے پیچھے ہٹ کر اسے سبوتاژ کر دیا۔
ہائی کمیشن نے اس واقعے کو مئی 2025 سے جاری بھارتی سفارتی ناکامیوں کا تسلسل قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے دلیل، مکالمے اور مضبوط قانونی مؤقف کے ساتھ مباحثہ جیتنے کی تیاری کی تھی، جبکہ بھارت نے ایک بار پھر پسپائی کو ہی حکمت عملی بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے تعلق رکھنے والے موسیٰ ہراج آکسفورڈ یونین کے صدر منتخب
پاکستانی وفد کے مطابق آکسفورڈ یونین میں بھارتی عدم شرکت نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ بھارت کے اپنے عوام کے سامنے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آکسفورڈ بھارت پاکستان مباحثہ