شک کی بنیاد پر گرفتاری و حراست کا اختیار صوبائی کمیٹی برائے امن وامان کو منتقل
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک :پنجاب کابینہ نے شک کی بنیاد پر گرفتاری و حراست کا اختیار صوبائی کمیٹی برائے امن و امان کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی۔
پنجاب کابینہ نے کابینہ کے اختیارات سب کیببٹ کمیٹی برائے امن وامان کو منتقل کردیے، متعلقہ کمیٹی اب کابینہ کی منظوری کے بغیر کیس نمٹا سکے گی۔پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے بڑے اختیارات کمیٹی کے سپرد کردیے گئے
متعلقہ کمیٹی پنجاب پولیس یا کسی ادارے کی رپورٹ پر بھی فیصلہ کرسکتی ہے۔ سیکشن تین کے تحت گرفتاری پر نمائندگی/اپیل کا فیصلہ بھی متعلقہ کمیٹی ہی کرے گی۔
بغیر نمبر پلیٹس، ڈرائیونگ لائسنس گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔