چین اور پاکستان کا دوستانہ تعلق ہمارا اثاثہ ہے: وفاقی وزیر عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کا دوستانہ تعلق ہمارا اثاثہ ہے، چین نے ثابت کیا ہے دوست وہ جو مشکل میں کام آئے۔
اسلام آباد میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی بے مثال ہے، چین پاکستان کا دوسرا گھر اور پاکستان بھی چین کا دوسرا گھر ہے، پاکستان اور چین کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جب بھی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا چین نے ہمیشہ مدد کی، مشکل وقت میں چین جیسے دوست ساتھ ہوں تو کچھ مشکل نہیں ہوتا، ہم چین کی قیادت کے شکرگزار ہیں، عوامی رابطوں کی بدولت ہمارے ہاں چین کی ثقافت پروان چڑھ رہی ہے۔
سندھ اورپنجاب میں 3،3 نئے صوبے بنانے سے عوام کو فائدہ ہوگا: وفاقی وزیر عبدالعلیم خان بھی کھل کر بول پڑے
ان کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی کبھی نہ ختم ہونے والی ہے، وقت نے ثابت کیا پاکستان اور چائنہ آئرن برادرز ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ پہلے 10 ممالک میں شامل ہے، کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، حالیہ سیلاب سے پنجاب بھی شدید متاثر ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر پاکستان کا
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔