اگر صوبائی حکومت ریاست کو سپورٹ نہیں کرتی تو پھر مجبوراً گورنر راج لگے گا: فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
---فائل فوٹو
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کےحالات جب خراب ہوجائیں تو پھر گورنر راج لگ سکتا ہے، صوبائی حکومت اگر ریاست کو سپورٹ کرتی ہے تو پھر تو ٹھیک ہے، اگر صوبائی حکومت سپورٹ نہیں کرتی تو پھر مجبوراً گورنر راج لگے گا، پی ٹی آئی کو احتجاج سے کچھ نہیں ملے گا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کسی کو صوبہ یا اسلام آباد بند نہیں کرنے دیں گے، صوبائی حکومت کو وفاق کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ سب سے پہلے ریاست اور پھر سیاست، افواج پاکستان نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی جلسے کا کیا مقصد تھا یہ علم نہیں ہے، اس بار پی ٹی آئی اسلام آباد میں احتجاج نہیں کرسکے گی، فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے، سٹرکوں پر کوئی فیصلے نہیں ہوتے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا میں گورننس ہے تو عوام نے تیسری بار منتخب کیا، گورننس وہاں نہیں جہاں آئی ایم ایف نے چارج شیٹ دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت نے ہمشیہ وفاقی حکومت کو سپورٹ کیا ہے۔
اِن کا کہنا تھا کہ جیل میں جانا کوئی بڑی بات نہیں، پاکستان کی ہر بڑی سیاسی شخصیت جیل گئی ہیں، پی ٹی آئی ریہرسل کرے پھر پتہ چلے گا کہ کیسے یہ لوگ گورنر ہاؤس آتے ہیں، پہلے بھی گورنر ہاؤس کا تیل بند کرنے کی دھمکی دی تھی، اب پی ٹی آئی کی خود بولتی بند ہوگئی ہے۔
’ احتیاطی تدابیر نہ کرنا شوگر کی بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے‘
اس سے قبل گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ملک بھر میں شوگر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ذیابیطس ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، شوگر کے مرض سے آگاہی انتہائی ضروری ہے، صحت مند ماحول کو فروغ دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کے آگاہی سیمینار سےثابت ہوتا ہے کہ شوگر قابل علاج بیماری ہے، شوگر کو خود کنٹرول کر سکتے ہیں، اس سے جڑی کان اور آنکھ کی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، شوگر مرض کی بروقت تشخیص کے لیے جدید ٹیکنالوجی موجود ہے، بروقت علاج نہ ہونے کے باعث لوگ شوگر سے متاثر ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کئی لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں، شوگر سے متعلق آگاہی کے لیے سیمینارز منعقد کریں، گور نرہاؤس کے دروازے آپ کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ احتیاطی تدابیر نہ کرنا شوگر کی بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے، ذیابیطس بیماری میں پاکستان کا نمبر سب سے آگے ہے، اس وقت شوگر مریضوں کی تعداد 3 کروڑ سے زیادہ ہے، شوگر مرض سے ہمارا ملک سب سے زیادہ متاثر ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی یہ بھی کہا کہ صاف ستھری خوراک اور روزانہ وزش سے اس مرض کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، خوشی ہوئی کہ طبی ماہرین صرف اسپتالوں تک محدود نہیں بلکہ ایسے سیمینار میں آگاہی بھی پھیلا رہے ہیں، حکومت بجٹ کا بڑا حصہ صحت پر خرچ کر رہی ہے، شوگر پر قابو پانا سب کی اجتماعی ذمے داری ہے، صرف حکومت کی نہیں، ہماری کوشش ہوتی ہے ملک میں تعلیم اور صحت کے لیے اچھی قانون سازی کر سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت پی ٹی آئی کا کہنا کے لیے کہا کہ تو پھر نے کہا
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔