9 مئی کو پی ٹی آئی، 10 مئی کو بھارت کو شکست دی: عطاء اللّٰہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ 9 مئی کو تحریکِ انصاف اور 10 مئی کو بھارت کو شکست دی، تحریکِ انصاف پاکستان کا دفاع کمزور کرنا چاہتی ہے۔
لاہور میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کو کھنڈر بنادیا ہے۔
عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ پشاور کے اتوار بازار میں پی ٹی آئی کا جلسہ بری طرح ناکام ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی خیبرپختون خوا میں 12 سال سے حکومت کر رہی ہے، جہاں ایک منصوبہ شروع نہ کر سکی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم انتخابی مہم میں کیے گئے تمام وعدے پورے کر رہے ہیں، بانیٔ پی ٹی آئی کی خواہش تھی کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے، یہ پارٹی ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا خوف دشمن پر طاری ہے، ملک کی معیشت بہتر ہونے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بڑا کردار ہے۔
عطاء تارڑ نے مزید کہا کہ انہوں نے 190 ملین پاؤنڈ کا ڈاکا مارا اس لیے جیل میں ہیں، انہوں نے شہداء کی یادگاروں کو گرایا، وہ کام کیا جو دشمن کرنا چاہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی بہنیں فوج کے خلاف بھارتی میڈیا پر بات کرتی ہیں، شرم آنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہا کہ انہوں نے مئی کو
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔