آئی ایم ایف بورڈ اجلاس سے پہلے پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ کل (8 دسمبر) پاکستان کے قرضہ پروگراموں کا جائزہ لے گا، جس کے نتیجے میں تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی نئی فنڈنگ کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
نجی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایم ایف نے جمعہ کو مختصر اعلان کے ذریعے اجلاس کی تاریخ کی تصدیق کی ہے۔ بورڈ اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ ای ایف ایف (Extended Fund Facility) اور آر ایس ایف (Resilience and Sustainability Facility) کے تحت لیا جائے گا۔ اگر بورڈ نے منظوری دے دی تو پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر موصول ہو سکیں گے۔
یہ بورڈ اجلاس اسٹاف سطح کے معاہدے کے بعد ہو رہا ہے، جو ستمبر اور اکتوبر میں کراچی، اسلام آباد اور واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔ اسٹاف مشن نے پاکستان کی پیش رفت کو تسلیم کر لیا تھا، لیکن فنڈز کی فراہمی بورڈ کی باضابطہ منظوری پر منحصر ہے۔
مالیاتی اور اصلاحاتی پیش رفت
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کی قیادت مشن چیف ایوا پیٹرووا نے کی تھی، جن میں مالیاتی استحکام، مالیاتی پالیسی، اسٹرکچرل اصلاحات اور ماحولیاتی وعدوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ آئی ایم ایف نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں پاکستان کی اہم کامیابیوں کو سراہا، جن میں شامل ہیں:
افراطِ زر میں کمی اور اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی
بیرونی مالیاتی ذخائر میں بہتری
سرکاری اداروں اور توانائی کے شعبے میں اسٹرکچرل اصلاحات
قدرتی آفات کے خلاف لچک بڑھانے اور موسمیاتی معلوماتی نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات
حالیہ سیلاب کے بعد یہ اصلاحات مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں، کیونکہ زرعی شعبہ، بنیادی ڈھانچہ اور روزگار متاثر ہوئے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے اعتماد کی مضبوطی
بورڈ کی منظوری سے نہ صرف پاکستان کے بیرونی ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی فروغ دے گی۔ حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرے اور محصولات بڑھانے کے اقدامات جاری رکھے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب اور دیگر خطرات کے باوجود افراطِ زر کو ہدف کے اندر رکھنا ضروری ہے۔
گورننس اور کرپشن رپورٹ
اس سے قبل، آئی ایم ایف نے پاکستان میں گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ (GCDA) رپورٹ جاری کی تھی، جس میں نظامی کمزوریوں اور بدعنوانی کے دیرینہ چیلنجز کو اجاگر کیا گیا۔ رپورٹ میں 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاکہ آئندہ 3 سے 6 ماہ میں اصلاحات شروع ہو کر پانچ سال میں معاشی نمو 5 سے 6.
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس رپورٹ پر تنقید کے بجائے اسے اصلاحات کو تیز کرنے کے لیے محرک قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے ٹیکس، گورننس اور دیگر شعبوں میں پیش رفت کی ہے اور باقی سفارشات پر بھی عمل جاری ہے۔
یہ فنڈنگ پاکستان کے لیے نہ صرف بیرونی مالیاتی استحکام بلکہ معاشی بحالی اور بین الاقوامی اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف نے پاکستان کے پیش رفت کے لیے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،