Express News:
2026-07-24@04:38:26 GMT

کوچۂ سخن

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

غزل
فیصلہ جب بھی میرے یار کیا جائے گا
ساری بستی کو خبردار کیا جائے گا
نام لیتے ہوئے آئیں گے دوانے میرا
دشتِ وحشت کو اگر پار کیا جائے گا
ہم سے اندھوں کو تری شکل دکھائی دے گی
عام ایسے ترا دیدار کیا جائے گا
بس اسی آس پہ بیٹھے ہیں تری چوکھٹ پر
وقت آئے گا تو اظہار کیا جائے گا
تیرے عالم کی سبھی نظم بدل سکتی ہے
ہم فقیروں کو اگر خوار کیا جائے گا
آتش ہجر میں ہو جائیں گے جب سرخ بدن
تب کہیں آگ کو گلزار کیا جائے گا
(مستحسن جامی۔ خوشاب)

غزل
صبر کرلو کہ بس یہی حل ہے
اور اس کے سوا کوئی حل ہے؟ 
حل ہوئے تب ہی مسئلے سارے
اس نے جب یہ کہا کہ جی حل ہے
ہاں وہی ایک شخص میرے لیے
کبھی مشکل ہے اور کبھی حل ہے 
اس کی جانب رجوع کرتا ہوں 
کچھ مسائل کا ایک ہی حل ہے
ہے جو میرے قلم میں کھاراپن
اس میں کچھ اشک کی نمی حل ہے
اک الگ مسئلہ ہے تربیت
مت سمجھ خوبصورتی حل ہے
دردِ دل، زخمِ مستقل کے لیے
شاعری ایک عارضی حل ہے
سوچتا ہوں کہ میں بھی کر گزوں
وہ جو ہر غم کا آخری حل ہے
جب وہ غصے میں ہو حمید رضاؔ 
چپ بھی حل ہے، کلام بھی حل ہے 
(حمید رضا۔سکردو)

غزل
کس قدر بے بسی سے ہار گئے
ہم تمہاری کمی سے ہار گئے
زندگی ہار دی محبّت میں
اور پھر زندگی سے ہار گئے
کتنے ہی قیس تھے سرِ صحرا
میری آوارگی سے ہار گئے
اک دن ایسا ہوا کہ شہر کے شہر
ایک کچّی گلی سے ہار گئے
وہ کہ جیتا نہ تھا کسی سے کبھی
اور ہم بس اُسی سے ہار گئے
جن کو دعویٰ تھا بادشاہت کا
تیرے اک اردلی سے ہار گئے
(اسیر ہاتف۔سرگودھا)

غزل
منفرد بھی تو انہیں سب سے جدا مانتے ہیں
اپنی تنہائی کو جو لوگ خدا مانتے ہیں
اتنا اتراؤ نہیں ہجر عطا کرنے پر
ہم تو اس کرب کو بس کرب نما مانتے ہیں
زرد پتے کی طرح تنہا پڑا ہوں لیکن
تیری نسبت سے مجھے لوگ ہرا مانتے ہیں
ہوش میں کیسے کسی بات سے انکار کریں
ہم تو وحشت میں بھی بس تیرا کہا مانتے ہیں
کاش یہ دکھ بھی دکھائی نہ سنائی دیتا
اور سب لوگ یہاں دیکھا سنا مانتے ہیں
(وقاص اللہ وقاص۔ خوشاب) 

غزل
اس پہلے کہ کوئی بات بنا لی جائے
کھڑکیاں کھول کے پھر تازہ ہوا لی جائے
شہرِ کم ظرف سے امید نہیں ہے پھر بھی
شہرِ کم ظرف سے یہ ہاتھ نہ خالی جائے 
مر گیا ہے کوئی معذور فُحاشی کرکے
بسترِ مرگ سے یہ لاش اٹھا لی جائے 
حسنِ ظن دیکھ کے معلوم ہوا ہے مجھ کو
چاق چوبند کوئی خانہ نہ خالی جائے
جس طرف سے کوئی انسان گزر کر آگیا
اُس طرف بھی میری تحریر لگا لی جائے
چاہتا ہے کہ محبت میں فنا ہو یہ ندیمؔ
بغض و کینہ کی یہ دیوار گرا لی جائے
(ندیم ملک ۔کنجروڑ، نارووال)

غزل
چمن میں جس کے لئے صف بہ صف بہاریں ہیں 
اکیلا شخص ہے چاروں طرف بہاریں ہیں 
جدھر سے گزرے معطر کرے وہ رستوں کو 
بدن سے اس کے ہوئی جیسے لف بہاریں ہیں 
ہیں نغمہ ریز ہوائیں تو پھول ہیں کھلتے
بجاتی کس کی محبت میں دف بہاریں ہیں 
تمہارا خوف خزاؤں پہ طاری ہے ورنہ 
ہمیں یقین ہے ان کا ہدف بہاریں ہیں
وہ جس کو چُھو لے اسے غیرتِ گلاب کرے
اسی کے لمس سے سب باشرف بہاریں ہیں
ہمارا موسمی معیار ہے الگ اپنی
مدینہ، کرب و بلاو نجف بہاریں ہیں
جمیل ؔمیں نے جو پوچھا یہ گوہر نایاب
زبانِ حال سے بولا صدف بہاریں ہیں 
(صادق جمیل ۔لاہور)

غزل
فلک پہ جیسے تارے اڑتے رہتے ہیں 
آنکھ میں خواب تمہارے اڑتے رہتے ہیں
تجھ بن یوں رہتے ہیں جیسے دریا پر
پنچھی پیاس کے مارے اڑتے رہتے ہیں 
تم جب ہونے کا احساس دلاتے ہو
دل سے خوف ہمارے اڑتے رہتے ہیں
کچھ آہیں تو ایسے اٹھتی ہیں، جیسے
درگاہوں پر نعرے اڑتے رہتے ہیں 
شعروں تک اربابؔ کا کوئی زور نہیں 
اس کی سمت ہی سارے اڑتے رہتے ہیں 
(ارباب اقبال بریار۔ واہنڈو، گوجرانوالہ)

غزل
آج بھی وہ شخص شامل ہے مرے ایمان میں 
دیکھ کر آتی ہے جس کو جان میری جان میں 
ہے خزاؤں کے دنوں میں بھی بہاروں کا سماں 
پھول کھلنے لگ گئے ہیں عشق کے گلدان میں 
اس طرح یادوں میں تیری دل سلگتا ہے مرا 
جل رہی ہو اک چتا جیسے کسی شمشان میں 
باپ کی دی ہر سہولت تھی میسر کل تلک 
مشکلیں اب بڑھ رہی ہیں حلقۂ آسان میں 
لگ سکیں نہ پار یارو خواہشوں کی کشتیاں 
پھنس گئیں یوں غربت و افلاس کے طوفان میں 
امنؔ اس کے بخت پر تو رشک آتا ہے مجھے 
تُو بنا مانگے ملا ہے جس کو یوں ہی دان میں 
(امن علی امن۔ پاک پتن )

غزل
بغض، کینہ نہ تری ذات کے اندر آئے 
بات تب ہے کہ جو اندر ہے وہ باہر آئے 
حکم مانا نہ پیمبر کا جنہوں نے وہ لوگ 
لوٹ کے آئے بھی تو بن کے وہ بندر آئے
یار آئے جو مرے گھر تو یہ سمجھوں جیسے 
شامِ غربت میں سہارے کو قلندر آئے 
بات کرتے ہیں عداوت کی وہ ہے بعد کی بات 
پہلے دشمن مرے قد کے تو برابر آئے 
جوش وحشت میں بھی بیمار یہی کہتا تھا 
راحتِ دل کے لئے شوخ ستمگر آئے 
خاک ہونا ہی پڑے گا تجھے بھی زعم نہ کر 
ورنہ کیا کیا تھے زمانے میں سکندر آئے 
ایک ہی رات میں سب حال نہ پوچھو شائق ؔ
کیسے ممکن ہے کہ کوزے میں سمندر آئے 
(شائق سعیدی ،رحیم یار خان)

غزل
عجب اب زمانے کو ہم دیکھتے ہیں
تعصب میں ڈوبے قلم دیکھتے ہیں
بہت خود غرض اب ہوئے اہلِ دنیا
نکلتا بھلائی کا دم دیکھتے ہیں
وہ اگلا زمانہ ہی اچھا تھا لوگو
شرافت کے اب سَر قلم دیکھتے ہیں
چلن ہو فقیری، نظر ہو عقابی
ابھی لوگ جاہ و حشم دیکھتے ہیں
کبھی باغ و باغیچہ ہوتا جہاں تھا
وہاں خاک کے اب اٹم دیکھتے ہیں
نبھانے کی تم نے جو کھائی کبھی تھی
چلو آج ہم وہ قسم دیکھتے ہیں
بجھی زندگانی میں قاضی ؔابھی ہم
تیری زلف سے پیچ و خم دیکھتے ہیں
(قاضی محمد آصف۔ کراچی)

غزل
نہیں آئے گا وہ واپس خدارا بھول جاؤ اب
بھنور کی زد میں آئے ہو کنارا بھول جاؤ اب
اگرچہ زندگانی میں خسارے ہی خسارے ہیں
دلاتا وہ دلاسہ ہے خسارا بھول جاؤ اب
وہ مجھ سے آ کے کہتا ہے میں تیرا ہو نہیں سکتا
کیا جو تھا کبھی میں نے اشارا بھول جاؤ اب
کہا یہ خواب میں آ کر کہ میں تو لوٹ آیا ہوں
بناں میرے جو جو لمحہ گزارا بھول جاؤ اب
جو تارا رات کو تم دیکھتے تھے، مسکراتے تھے
وہ راتیں بھول جاؤ اب وہ تارا بھول جاؤ اب
وہ موجِ بیکراں جس میں تھا ساگرؔ کا جنوں شامل
نہیں مچلے گا پھر سے تم وہ دھارا بھول جاؤ اب
(رجب علی ساگر ۔پہاڑ پور، ڈیرہ اسماعیل خان)

غزل
ہے قبا کیسی ادھڑتی ہی چلی جاتی ہے
زندگانی ہے کہ جھڑتی ہی چلی جاتی ہے
ایسا  کچھ  بھی  تو  کیا  تھا  نہ  بہو   بیٹی   نے
بے سبب ساس جھگڑتی ہی چلی جاتی ہے
صدقے واری بھی کئی بار گئی ہے بیگم
ضد پہ آ جائے تو لڑتی ہی چلی جاتی ہے
یہ جو رہتی ہے تو آباد وفا کے دم سے
دنیا اجڑی تو اجڑتی ہی چلی جاتی ہے
بے حسی چہرے کو بے رنگ بناتی ہے ضرور
گرد احساس پہ پڑتی ہی چلی جاتی ہے
ہم اسے اپنی شرافت سے، شرافت سے ملیں
اور دنیا کہ اکڑتی ہی چلی جاتی ہے
خون انسان کا توقیر گنوا بیٹھا ہے 
انسیت خاک میں گڑتی ہی چلی جاتی ہے
ایک لڑکی کہ جو کانٹوں سے بچائے دامن
پر چنریا ہے کہ اڑتی ہی چلی جاتی ہے
بات کرتے ہوئے تو اس کو کبھی دیکھ رشیدؔ
جو رتن لفظوں کے جڑتی ہی چلی جاتی ہے
(رشید حسرت۔ کوئٹہ)

سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
 روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیا جائے گا بھول جاؤ اب دیکھتے ہیں بہاریں ہیں سے ہار گئے مانتے ہیں لی جائے میں بھی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر