امریکا چاہتا ہے کہ یوکرین ڈونباس سے مکمل دستبردار ہو جائے، زیلنسکی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
صحافیوں سے گفتگو میں یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی امن منصوبے سے متعلق غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ جب تک اس بات کی ضمانت نہ دی جائے کہ روسی فوجی یوکرینی انخلا کے بعد اس علاقے پر قبضہ نہیں کریں گے، تب تک ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکا نے ڈونباس میں آزاد اقتصادی زون بنانے کی تجویز دی ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ یوکرین اس علاقے سے دستبردار ہو جائے۔ زیلنسکی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکی امن منصوبے سے متعلق غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ جب تک اس بات کی ضمانت نہ دی جائے کہ روسی فوجی یوکرینی انخلا کے بعد اس علاقے پر قبضہ نہیں کریں گے، تب تک ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات کے تحت یوکرین اس علاقے سے دست بردار ہو جائے گا، روس بھی اس علاقے پر قبضہ چاہتا ہے، لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر یوکرین اس طرح کے کسی منصوبے پر متفق بھی ہوا، تو اسے عوامی رائے شماری یا انتخابات کے ذریعے توثیق کی ضرورت ہوگی۔ دوسری جانب نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے دفاعی اخراجات اور پیداوار میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روس کا اگلا ہدف نیٹو اتحادی ممالک ہوسکتے ہیں، جس کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا اور اسے روکنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اس علاقے
پڑھیں:
بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔