جیکی چن کی موت کی افواہیں، مداحوں کا سوشل میڈیا پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
ہانگ کانگ کے معروف اداکار اور ایکشن اسٹار جیکی چن کے انتقال کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، اور کچھ پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کی موت کی تصدیق ان کی بیوی اور بیٹی نے کی ہے۔
ان جھوٹی خبروں کے ساتھ جیکی چن کی اسپتال میں موجود تصویر بھی شیئر کی گئی، جس سے افواہیں مزید پھیل گئیں۔ ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جیکی چن کی موت پرانے آن-سیٹ زخموں کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سنگھم اگین میں اجے دیوگن اور جیکی شروف کا فائٹ سین وائرل، ’یہ فلم کم اور ویڈیو گیم زیادہ لگ رہی ہے‘
کچھ صارفین نے حیرت کا اظہار کیا اور دیگر کو خبردار کیا کہ معلومات کی تصدیق کیے بغیر شیئر نہ کریں۔ متعدد صارفین نے واضح کیا کہ جیکی چن زندہ ہیں اور ایسے گمراہ کن دعووں پر یقین نہ کیا جائے۔ تاہم، ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’جیکی چن چار دن پہلے فوت ہو گئے اور کسی نے کچھ نہیں بتایا‘؟
لیکن جیکی چن کے انتقال کے یہ دعوے بالکل غلط ہیں۔ 71 سالہ اداکار صحت مند اور خیریت سے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں جب جیکی چن موت کی افواہوں کا شکار ہوئے ہیں۔ 2015 میں انہوں نے اس حوالے سے کہا تھا کہ ہوائی جہاز سے اترنے کے بعد اپنے انتقال کی خبر دیکھ کر حیران رہ گئے، اور واضح کیا کہ ’فکر نہ کریں، میں زندہ ہوں‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جیکی چن جیکی چن انتقال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جیکی چن جیکی چن انتقال جیکی چن کیا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔