ٹرمپ سے شامی صدر احمد الشرع کی ملاقات، مشرق وسطیٰ کے لیے نیا اشارہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا اور شام کے درمیان برسوں سے جمی برف پگھلنے لگی ہے۔
شامی صدر احمد الشرع نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئی سمت کا اشارہ قرار دی جا رہی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن، اور بین الاقوامی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران احمد الشرع کی عملیت پسندی اور اصلاحاتی وژن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مجھے شامی صدر پسند آئے اور ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ شام کامیاب ہو کیونکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کا اہم حصہ ہے۔
ملاقات کے چند گھنٹے بعد ہی امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک غیر متوقع اعلان کیا، جس کے تحت سیزر سیریا ایکٹ کے تحت شام پر عائد اقتصادی پابندیاں چھ ماہ کے لیے عارضی طور پر ختم کر دی گئیں۔ یہ فیصلہ خطے میں استحکام کی کوششوں اور شام کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ شام کے شہریوں کے لیے معاشی مواقع بڑھانے، انسانی ترقی کو فروغ دینے اور تعمیرِ نو کے عمل کو آسان بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ اقدام اعتماد سازی کے عمل کا حصہ ہے، جس کے تحت امریکا شام کے ساتھ محدود سطح پر تعاون کے دروازے کھولنے پر غور کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ سیزر سیریا سویلین پروٹیکشن ایکٹ 2019 میں منظور کیا گیا تھا، جس کا مقصد سابقہ شامی حکومت اور فوج پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کریں۔ اس قانون کے تحت امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو شام کی حکومت یا فوج سے کاروباری روابط رکھنے سے مکمل طور پر روک دیا گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال جون میں بھی واشنگٹن نے انسانی بنیادوں پر شام پر عائد کچھ تجارتی پابندیاں نرم کی تھیں، مگر سیزر ایکٹ بدستور نافذ العمل تھا، تاہم، اب اس کے جزوی خاتمے نے شام کے لیے اقتصادی بحالی کی نئی امید پیدا کر دی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ اور الشرع کی ملاقات ایک علامتی مگر اہم موڑ ہے۔ ایک طرف امریکا اپنے اقتصادی مفادات اور مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی بحالی چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف شام عالمی تنہائی سے نکلنے کی راہ پر گامزن ہے۔
اُدھر مشرقِ وسطیٰ میں کئی حلقے اس پیش رفت کو امریکا کی نئی عملی پالیسی قرار دے رہے ہیں، مگر فلسطینی اور عرب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ قدم وقتی اور سیاسی مفاد کے تحت ہے، کیونکہ واشنگٹن کبھی بھی شام، فلسطین یا کسی عرب ملک کے حقیقی مفاد میں دیرپا قدم نہیں اٹھاتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے تحت شام کے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔