محبت کی انتہا، لڑکی نے اپنے عاشق کی لاش سے شادی کرلی، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناندیڑ میں ایک نوجوان کے قتل کے بعد اس کی گرل فرینڈ نے جنازے کے دوران اپنے مقتول عاشق سے شادی کر کے سب کو حیران کر دیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، آنچل نامی لڑکی تین سال سے سکشم ٹیتے کے ساتھ تعلقات میں تھی اور ان کی شادی کرنا چاہتی تھی، لیکن آنچل کے گھر والے اس رشتے کے سخت مخالف تھے۔ خاندان نے نوجوان کو مارپیٹ کے بعد گولی مار کر اور سر پتھر سے کچل کر قتل کر دیا۔
A 20-year-old man was beaten up, shot and his head was crushed with a stone in #Maharashtra's #Nanded.
At his funeral, his girlfriend applied vermillion on her forehead and vowed to live in his house as a daughter-in-law.
Aanchal met #SakshamTate through her brothers and grew… pic.twitter.com/3TQGVuIuKN
— Hate Detector ???? (@HateDetectors) November 30, 2025
سکشم کی آخری رسومات کے دوران آنچل اس کے گھر پہنچی، اس نے اپنے ماتھے پر سندور بھرا اور اعلان کیا کہ اس نے اپنے محبوب سے ’مرتے دم تک‘ شادی کر لی ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی باقی زندگی اس کے گھر میں اس کی بیوی کے طور پر گزارے گی۔
آنچل نے قاتل خاندان کے خلاف بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری محبت نے موت کے بعد بھی جیت حاصل کی، جبکہ میرے والد اور بھائی ہار گئے‘۔ اس نے قاتلوں کو موت کی سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ پولیس نے 6 افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا میں شادی شادی عاشق کا قتل عاشق کی لاش سے شادی ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا میں شادی عاشق کا قتل عاشق کی لاش سے شادی ویڈیو وائرل
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔