پڈعیدن،مختلف واقعات میں بچی سمیت3افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251210-11-1
پڈعیدن(نمائندہ جسارت) مبینہ ٹپال گاوں کے قریب نہر سے نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے اطلاع پر پولیس نے پہنچ کر لاش کو اسپتال منتقل کردیا جہاں متوفی متوفی کی شناخت نذیر مری کے نام سے ہوئی ہے پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد لاش ورثہ کے حوالے کردی،اس موقع پر ورثہ نے پولیس کو بتایا کہ نذیر مری گزشتہ پانچ روز سے لاپتا تھا متوفی ٹریکٹر پر ڈرائیوری کرکے بچوں کا پیٹ پال رہا تھا،ہمیں شک ہے کہ ہمارے نوجوان کو قتل کیا گیا ہے واقع کی شفاف انکوائری کرکے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔دوسرے واقعے میں قومی شاہراہ سدھوجا کے قریب سے نوجوان کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ہے،واقعے کی اطلاع پر پولیس نے پہنچ کر لاش کو اسپتال منتقل کردیا جہاں متوفی کی شناخت حسین خاصخیلی کے نام سے ہوئی ہے جوکہ گاوں مزار خاصخیلی کا رہائشی بتایا جاتا ہے ۔تیسرے واقعے میں مورو کے قریب گاوں مناہی عنایت چانڈیو میں گھر کے قریب کھلتے ہوئیے چار سالہ معصوم بچی زویا تالاب میں گر کر جاںبحق ہو گئی،اطلاع پر اہلے خانہ نے پہنچ کر فوری طور بچی کو اسپتال منتقل کردیا جہاں ڈاکٹرز نے بچی کے فوت ہونے کی تصدیق کی لاش ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردی،تینوں لاشیں گھروں میں پہنچنے پر کہرام مچ گیا افسوسناک واقعات میں گائوں میں سوگ کی فضا چھا گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔