موجودہ پاکستان علامہ اقبال کے خوابوں کے برعکس ہے‘ اسلم فاروقی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) بانیان پاکستان کی اولادوں کی تنظیم محب قومی سماجی کونسل (ایم کیو ایس سی) پاکستان کے چیئرمین و محب وطن سماجی رہنما محمد اسلم خان فاروقی نے کہا ہے کہ موجودہ پاکستان شاعر مشرق مفکر پاکستان علامہ اقبال کے خوابوں کے برعکس ہے ملک میں آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے حکمران اپنی جائدادیں, اثاثے و اقتدار بچانے اور بانی پی ٹی آئی کے ڈر خوف سے 27ویں ترمیم لارہے ہیں, حکمرانوں کو بانی پی ٹی آئی کا بہت ڈر و خوف ہے اور بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری بھی حکمرانوں کے خوف کی ہی ایک کڑی ہے اسوقت ملک میں لیڈر شپ کا شدید فقدان ہے یہ ہی وجہ ہے کہ عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور دو وقت کی روٹی تک کے لیے رل رہے ہیں تاہم بنیادی حقوق سے کھیلواڑ برداشت نہیں کریں گے آئین پاکستان میں بنیادی حقوق کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے آئین میں دی گئی بنیادی حقوق کی شقوں پر عملدرآمد تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ان خیالات کا اظہار اسلم خان فاروقی نے مرکز فاروقیہ میں معززین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اسلم خان فاروقی نے کہا کہ ہماے بزرگوں نے لازوال و عظیم قربانیاں دیکر پاکستان کا قیام ممکن بنایا تھا قوم کو چاہیے کہ بزرگوں کی عظیم قربانیاں رائیگاں نہ جانے دیں اور ملک و نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے بھرپور جدوجہد کریں اور آئین میں دئے گئے اپنے بنیادی حقوق کے لیے بھرپور آواز بلند اٹھائیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خلق خدا کو تڑپانے والے اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں پائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنیادی حقوق
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔