Express News:
2026-06-03@06:30:03 GMT

پی ٹی آئی سیاسی راستے کی تلاش میں

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

تحریک انصاف ایک مشکل وقت سے دوچار ہے اور سیاسی راستے کی تلاش میں ہے۔ایک ہی وقت میں پارٹی کے اندر اور بیرون مسائل کا سامنا ہے تو دوسری طرف بانی پی ٹی آئی اور دیگر رہنماؤں کوعدالت سے بھی وہ ریلیف نہیں مل رہا جو وہ چاہتے ہیں ۔

اس وقت وہ عملاً سیاسی میدان سے باہر ہیں، کچھ مفرور ہیں، اور جو باہر ہیں، وہ سیاسی سرگرمیاں کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو قانونی اور انتظامی بنیادوں پر جلسے پرامن رکھنے کی یقین دہانیوں کا سامنا ہے جو ایک مشکل کام ہے۔پی ٹی آئی میں وہ سیاسی دھڑا جو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر مفاہمت یا سیاسی راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا، اسے بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ بانی پی ٹی آئی سمیت ان کی اہلیہ ،بہنوں ، رشتے داروں سمیت ان کی پارٹی کے نظر بند ساتھیوں کو بدستور کوئی بڑی سہولت یا ریلیف نہیں مل سکا ۔

بہرحال یہ حقیقت قومی سیاست اس وقت بھی ان ہی کے گرد گھوم رہی ہے ۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے نوجوان سہیل آفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا تقرری نے واقعی سب کو پریشان کردیا ہے۔ وہ ابتدا ہی میں جارحانہ انداز اپنائے نظر آئے ہیں اور وہ مزاحمتی بیانیہ اختیار کرکے پی ٹی آئی کے حلقوں میں مقبول ہوئے ہیں ۔ جلسوں، قبائلی عمائدین کے ساتھ امن جرگہ اور صوبائی معاملات پر انھوں نے سخت موقف لیا ہے۔

وہ خیبر پختونخوا میں براہ راست پارٹی ورکرز اور ووٹرز سے جڑے ہیں اور ان کو بنیاد بنا کر بانی پی ٹی آئی کا بیانیہ پیش کررہے ہیں ۔ان کے بقول ان کے تمام تر فیصلے بانی پی ٹی آئی کے فیصلے ہیں اورہوںگے اوران فیصلوں کو بنیاد بنا کر آگے بڑھیں گے۔بانی پی ٹی آئی بڑی سیاسی تحریک کو ترتیب دے رہے ہیں جس میں اسلام آباد کی طرف ایک بار پھر لانگ مارچ کا اعلان ہے۔امکان ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اس کا اعلان صوبے میں انصاف اسٹوڈنٹس فیدڑیشن کے کنونشن میں کریں گے جو نومبر کے تیسرے یا آخری ہفتہ ہوسکتا ہے۔ یہ بات بھی دیکھنے کو مل رہی ہے کہ سہیل آفریدی کی تقرری نے خیبر پختونخوا میں پارٹی گروپ بندی یا اختلافات کو بھی کم کیا ہے ۔

سہیل آفریدی کا لب ولہجہ ظاہر کرتا ہے کہ فوری طور پر حکومت اور پی ٹی آئی میں مفاہمت کے امکانات کم ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے خلاف بڑا سیاسی ٹکراؤ دیکھنے کو ملے گا۔بانی پی ٹی آئی نے ان دو برسوں میں اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ جو بھی مفاہمت کے کارڈ بذریعہ پارٹی کھیلے ہیں، ان میں ان کو کوئی کامیابی نہیں مل سکی ۔اب بانی پی ٹی آئی سمجھتے ہیں کہ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی رہائی یا پارٹی پر جو مشکلات ہیں، وہ سڑکوں پر آئے بغیر ممکن نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اب ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی بات سامنے آئی ہے اور اس کی کامیابی کے لیے خیبر پختونخواہ یا نئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی طرف دیکھا جارہا ہے۔لیکن کیا وزیر اعلیٰ اس لانگ مارچ میں سابقہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سے مختلف ثابت ہوسکتے ہیں ؟اور کیا وہ لاکھوں افراد کو اسلام آباد کی طرف لاسکیں گے ؟سہیل آفریدی کا پہلا بڑا چیلنج ہی بانی پی ٹی آئی کے حق میں مزاحمت کی سیاست کو ابھارنا ہے ، ان کا مستقبل بھی اسی نقطہ سے جڑا ہوا ہے۔

کیا وہ لانگ مارچ کر پائیں گے یا وہ بھی ماضی کے لانگ مارچز جیسے انجام سے دوچار ہوگا۔پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کیسے کامیاب ہوگا جب کہ اس کی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی تنظیم سازی بہت ہی کمزور ہے ۔ماضی میں جو لوگ عملا سیاسی تحریک میں شامل ہوئے ان کے ساتھ باہر بیٹھی قیادت نے کیا کیا اور کتنا ان کے ساتھ کھڑے ہوئے اس پر بھی غور ہونا چاہیے۔اس کا بھی پی ٹی آئی کو جائزہ لینا چاہیے کہ وفاقی حکومت کسی بھی صورت میں ان کو اسلام آباد نہیں آنے دیگی اور اس کے نتیجے میں ریاست اور حکومت کا پی ٹی آئی سے ٹکراؤ ہوگا۔میں یہ بات بار بار لکھتا رہا ہوں کہ مفاہمت کا سیاسی کارڈ اسی صورت میں کامیاب ہوتا ہے جب ہم کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، اسی میں سب کا بھلا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی سہیل آفریدی اسلام آباد وزیر اعلی لانگ مارچ ہیں اور کے ساتھ کی طرف

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا