اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا مثبت آغاز، انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ہفتے کا آغاز مثبت نوٹ پر کیا، جہاں پیر کے دن ابتدائی گھنٹوں میں کے ایس سی 100 انڈیکس میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔
مارکیٹ میں مثبت جذبات کی وجہ حالیہ مستحکم معاشی اشارے تھے، صبح 10:40 بجے کے ایس سی 100 انڈیکس 160,632.77 پوائنٹس پر رہا، جو کہ 1,039.87 پوائنٹس یعنی 0.
یہ بھی پڑھیں: ہفتے بھر مندی کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں نئی جان، انڈیکس میں 2 ہزار پوائنٹس کا اضافہ
اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جن میں گاڑی ساز ادارے، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی کھوج کرنے والی کمپنیاں، تیل کی تقسیم کار کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنری کے شعبے شامل ہیں۔
PSX Opened Positive ????
☀️ KSE 100 opened positive by +991.2 points this morning. Current index is at 160,584.11 points (9:45 AM) pic.twitter.com/Jfpj686b0K
— Investify Pakistan (@investifypk) November 10, 2025
انڈیکس میں وزنی شیئرز جیسے کہ آر ایل، پی ایس او، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، حبکو، ایچ سی اے آر، ڈی جی کے سی، ایم ای بی ایل اور این بی پی سبز زون میں ٹریڈ ہوئے۔
مالیاتی شعبے کے ایک دستاویز کے مطابق، پاکستان نے موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 2.1 ٹریلین روپے کا بجٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو کہ جی ڈی پی کا 1.6 فیصد بنتا ہے۔
گزشتہ ہفتے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کارکردگی کمزور رہی، کیونکہ مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور کمزور معاشی اشاروں نے سرمایہ کاروں کے جذبات پر دباؤ ڈالا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
کے ایس سی 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 2,038 پوائنٹس یا 1.3 فیصد کمی کے بعد 159,592.91 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر، پیر کو عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری دیکھنے کو ملی، کیونکہ امریکی حکومت کے طویل شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی۔
امریکی سینیٹ نے اتوار کے روز ایک ایسا بل آگے بڑھایا جس کا مقصد وفاقی حکومت کو دوبارہ کھولنا اور 40 روز سے جاری شٹ ڈاؤن ختم کرنا ہے، جس کے دوران وفاقی ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی، خوراک کی امداد میں تاخیر ہوئی اور ہوائی سفر متاثر ہوا۔
مزید پڑھیں: مثبت خبروں نے اسٹاک مارکیٹ سنبھال لی، انڈیکس میں 5,200 پوائنٹس کا اضافہ
اگر سینیٹ یہ بل منظور کر لے، تو یہ اب بھی ایوان نمائندگان کی منظوری اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیجنا ہوگا، جس میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
امریکا میں شٹ ڈاؤن نے معیشت پر بڑھتا ہوا اثر ڈالا ہے، کیونکہ ہوائی اڈوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج کے وفاقی ملازمین بغیر تنخواہ کام کر رہے ہیں، جبکہ مرکزی بینک کے پاس محدود سرکاری معاشی ڈیٹا ہے۔
چین میں سی ایس آئی 300 بلیو چپ انڈیکس 0.24 فیصد نیچے آیا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.6 فیصد بڑھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج ڈونلڈ ٹرمپ شٹ ڈاؤن غیر یقینی صورتحال مستحکم معاشی اشارے ہانگ کانگ وفاقی ملازمین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج ڈونلڈ ٹرمپ شٹ ڈاؤن غیر یقینی صورتحال ہانگ کانگ وفاقی ملازمین پوائنٹس کا اضافہ پاکستان اسٹاک انڈیکس میں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔