حکومتی شٹ ڈاؤن : فضائی نظام متاثر، امریکا میں فلائٹس میں 20 فیصد تک کمی کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت کا شٹ ڈاؤن مزید جاری رہا تو آئندہ دنوں میں ملک بھر میں فضائی پروازوں کی تعداد میں 20 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے، آئندہ ہفتے سے ابتدائی طور پر 10 فیصد پروازیں کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شان ڈفی نے کہا کہ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی حفاظتی ٹیم کے اعداد و شمار کے مطابق اسٹاف کی کمی کے باعث یہ اقدام ناگزیر ہوگیا ہے، ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی بڑی تعداد تنخواہیں نہ ملنے کے باعث کام پر نہیں آرہی اور کئی افراد گزر بسر کے لیے دیگر ملازمتیں کر رہے ہیں، جیسے ریستورانوں میں کام کرنا یا اوبر چلانا۔
شان ڈفی کاکہنا تھا کہ اگر صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو مزید کنٹرولرز کے نہ آنے سے فضائی دباؤ بڑھے گا اور ہمیں پروازوں میں مزید 15 سے 20 فیصد تک کمی کرنی پڑسکتی ہے، انہوں نے کانگریس سے اپیل کی کہ وہ سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ کر فوری طور پر شٹ ڈاؤن ختم کرے تاکہ امریکی عوام اور مسافروں کو مشکلات سے نجات مل سکے۔
شان ڈفی نے مزید کہا کہ اگر حکومت فوری طور پر دوبارہ کھل بھی جائے تو مکمل نظام بحال ہونے میں کئی دن لگ سکتے ہیں، ایئر لائنز کو پروازیں مکمل طور پر بحال کرنے میں کم از کم ایک ہفتہ درکار ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکا میں یہ شٹ ڈاؤن یکم اکتوبر سے جاری ہے، جس کے باعث ہزاروں وفاقی ملازمین، بشمول ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایجنسی (TSA) کے افسران، تنخواہوں کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ شٹ ڈاؤن جمعے کو 38 ویں دن میں داخل ہوچکا ہے اور یہ امریکی تاریخ کا سب سے طویل حکومتی تعطل بن چکا ہے۔ اس سے قبل سب سے طویل شٹ ڈاؤن 2018 سے 2019 کے درمیان سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 35 دن جاری رہا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شٹ ڈاؤن
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔