’ادویات کی قیمتوں میں حکومتی ڈی ریگولیشن پالیسی کے بعد15 فیصد اضافہ ہوا‘
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے واضح کیا ہے کہ فروری 2024 میں حکومت کی ڈی ریگولیشن پالیسی کے بعد ادویات کی قیمتوں میں 23 فیصد نہیں بلکہ اوسطاً 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے بیان میں وضاحت کی گئی کہ 32 فیصد کا اعداد و شمار گزشتہ دو سالوں میں ہونے والے مجموعی اضافے کی نمائندگی کرتا ہے، صرف ڈریگولیٹریشن کے بعد کے عرصے کی نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ 15 فیصد کے حقیقی اضافے میں تقریباً 2.
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے عالمی سطح پر ادویات کی فروخت اور قیمتوں کے حوالے سے سب سے معتبر ذریعہ آئی کیو وی آئی اے کی تازہ ترین رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 مہینوں کے دوران مجموعی قیمتوں میں اضافہ صرف 16 فیصد رہا۔
بیان کے مطابق، ڈی ریگولیشن پالیسی سے قبل پاکستان کی دواسازی صنعت شدید بحران کا شکار تھی، جس کی وجوہات میں قیمتوں پر سخت حکومتی کنٹرول، روپے کی تاریخی قدر میں کمی، اور 35 فیصد تک پہنچنے والی ریکارڈ مہنگائی شامل تھیں۔
ان عوامل کی وجہ سے کینسر، انسولین، ٹی بی، ہیپرین، اور امراضِ قلب کی اہم ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی، جس کے باعث مریضوں کو جعلی یا اسمگل شدہ ادویات پر انحصار کرنا پڑا۔
بیان میں کہا گیا کہ غیر ضروری ادویات کی ڈی ریگولیشن پالیسی کے باعث اب 50 سے زائد زندگی بچانے والی اور اہم ادویات دوبارہ مقامی فارمیسیز میں دستیاب ہو گئی ہیں، کیونکہ کارخانہ داروں نے پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے۔
بیان کے اختتام پر ایسوسی ایشن نے حکومت کا بروقت اقدام اٹھانے پر شکریہ ادا کیا، جس سے مارکیٹ کو مستحکم کرنے اور پاکستان کی پالیسی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے میں مدد ملی، جیسا کہ بھارت اور بنگلہ دیش میں کیا جاتا ہے، جہاں صرف ضروری ادویات ہی قیمتوں کے حکومتی کنٹرول میں رہتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن ادویات کی
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔