طالبان کی سرپرستی میں ٹی ٹی پی خطے کیلیے سنگین خطرہ بن گئی؛ سربراہ سلامتی کونسل کمیٹی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا گیا ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ایک سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔
یہ بات ڈنمارک کی نائب مستقل نمائندہ ساندرا جینسن لینڈی نے بدھ کو نیویارک میں ہونے والے اجلاس میں بطور چیئر داعش اور القاعدہ پر پابندیوں کی کمیٹی بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
انھوں نے مزید کہا کہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بننے والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان کی طالبان حکومت کی ’’لازمی اور خاطر خواہ‘‘ معاونت بھی حاصل ہے۔
ساندرا جینسن نے مزید بتایا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں جو پاکستانی سرزمین پر متعدد بڑے اور ہلاکت خیز حملے کر چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کالعدم تنظیم کو افغانستان کی طالبان حکومت کے حکام کی جانب سے ملنے والی مدد نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو مزید تقویت دی۔
ساندرا جینسن لینڈی نے اپنی بریفنگ میں داعش، القاعدہ اور ان کے علاقائی نیٹ ورکس کے بڑھتے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔
انھوں نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پسپائی کے بعد داعش نے افریقا کو نیا مرکز بنا لیا جب کہ شام، افریقا اور وسطی ایشیا کے درمیان غیر ملکی دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت مسلسل تشویش کا باعث ہے۔
ساندرا جینسن نے کہا کہ داعش خراسان کم از کم دو ہزار جنگجوؤں کے ساتھ خطے کے لیے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے اور شیعہ برادری، افغان حکام اور غیر ملکی شہری ان کے اہم اہداف ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔