ٹیکنالوجی اصلاحات: پاکستان کی آئی ٹی سیکٹر میں غیرمعمولی رفتار سے ترقی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر غیرمعمولی رفتار سے ترقی کر رہا ہے، جہاں 3.8 ارب ڈالر کی برآمدات، 20 فیصد سالانہ اضافہ اور 5 لاکھ سے زیادہ ماہرین ملک کے ڈیجیٹل مستقبل کو نئی سمت دے رہے ہیں۔
نوجوان ڈیجیٹل انٹرپرینیورز کی شمولیت اور ٹیکنالوجی اصلاحات نے آئی ٹی کو پاکستان کی معیشت کا تیزی سے ابھرتا ہوا انجن بنا دیا ہے، جو روزگار، برآمدات اور عالمی ٹیک تعاون کو نئی سطح پر لے جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کے لیے وزیراعظم نے بڑا پیکیج تیار کرنے کی ہدایت کردی
سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستان مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کوانٹم کمپیوٹنگ اور 5 جی جیسے جدید شعبوں میں داخل ہو رہا ہے۔
پاکستان اقتصادی بحالی کے مرحلے سے آگے بڑھ کر اب ایسی مستحکم ترقی کی طرف جا رہا ہے جس کی بنیاد جدت، نئی سرمایہ کاری اور ایسے اصلاحاتی اقدامات پر ہے جو کاروبار کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کم کررہے ہیں اور روزگار کے مواقع پیدا کررہے ہیں۔
اس تبدیلی کا بنیادی محرک اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) بن چکی ہے، جو سرخ فیتے کا خاتمہ، منظوری کے عمل کو تیز کرنے اور بیرونی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔
24 کروڑ سے زیادہ آبادی اور خطے میں اسٹریٹجک اہمیت کے باعث پاکستان بالآخر معدنیات، ٹیکنالوجی اور برآمدات کے شعبوں میں اپنی اصل صلاحیتیں استعمال کرنا شروع کررہا ہے۔
ریکوڈک جیسے میگا منصوبے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آئی ٹی انڈسٹری اور ریکارڈ سی فوڈ ایکسپورٹس اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان کی معیشت کا رخ تبدیل ہو رہا ہے۔
اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پاکستان 2040 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہو جائے گا، ایک ایسا ہدف جو کبھی بہت دور سمجھا جاتا تھا۔
پاکستان کی معدنی دولت، جس کی مالیت قریباً 6 ٹریلین ڈالر ہے، 2030 تک سالانہ 8 سے 10 ارب ڈالر لا سکتی ہے۔
ریکو ڈک 2028 تک سالانہ 2 لاکھ ٹن تانبہ پیدا کرے گا اور 7 ہزار 500 کے قریب روزگار فراہم کرے گا، جس سے بلوچستان کی ترقی میں تعاون ہوگا۔
مالی سال 2025 میں پاکستان کی سی فوڈ برآمدات 489 ملین ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچ گئیں، جو اگلے سال 600 ملین ڈالر تک جانے کی رفتار رکھتی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ تمام شعبے 2030 تک جی ڈی پی میں 5 سے 7 فیصد اضافہ، روزگار کے مواقع، برآمدات اور عوامی زندگی میں بہتری لاسکتے ہیں۔
پاکستان کے 6 ٹریلین ڈالر کے معدنی ذخائر اصلاحات اور عالمی شراکت داریوں کی بدولت ایک بڑے معاشی موقع میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
آسان لائسنسنگ اور عالمی سطح پر فعال رابطوں نے پاکستان کو ان معدنیات کا قابلِ اعتماد سپلائر بننے میں مدد دی ہے جو گرین انرجی ٹرانزیشن کے لیے ضروری ہیں۔
ریکو ڈک پاکستان کی معدنیات کے شعبے کی بحالی کی علامت ہے، جو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور ہزاروں اسکلڈ نوکریاں دے گا۔
اے آئی آئی بی کی معاونت اور کمیونٹی ٹریننگ پروگرامز مقامی آبادی کو طویل المدت معاشی فائدے حاصل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
پاکستان کی سی فوڈ ایکسپورٹس میں اضافہ جدید ایکواکلچر طریقوں اور ایس آئی ایف سی کے تعاون سے بہتر کولڈ چین سہولیات کے باعث ممکن ہوا ہے۔
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ پاکستان کے نوجوان ڈیجیٹل اُدیمیوں (انٹرپرینیورز) کی تخلیقی صلاحیتوں اور محنت کا عکاس ہے۔
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل انفراسٹرکچر زرعی شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافہ کرے گا، شزا فاطمہ
ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 ایپ ڈیولپمنٹ، اسٹارٹ اپس اور عالمی ٹیکنالوجی تعاون کو مضبوط بنا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور 5 جی میں تیز رفتار پیش رفت پاکستان کے ڈیجیٹل اور صنعتی مستقبل کو نئی شکل دے رہی ہے۔
سی پیک فیز ٹو کے منصوبے بشمول ’کوانٹم ویلی‘ اور اردو اے آئی پارٹنرشپس پاکستان کو عالمی ٹیک مقابلہ میں بہتر مقام دینے کی جانب بڑا قدم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کی اور عالمی ڈیجیٹل ا ڈالر کی آئی ٹی رہا ہے
پڑھیں:
کلچر کب تہذیب بنتا ہے
سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔
ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔
سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔
شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔
تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔
ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔
تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔
آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔
تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔