اب حسینہ واجد کا کیا بنے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
شیخ حسینہ بنگلہ دیش کے عوام کے غیض و غضب سے جان بچا کر ڈھاکا سے دہلی بھاگ گئی تھی، یہ 5 اگست 2024 کی بات ہے۔ حسینہ واجد نے 15 سال مسلسل بنگلہ دیش پر حکومت کی مگر ہر الیکشن میں ہار کر بھی کامیاب قرار دی جاتی رہی، اس لیے کہ پشت پر بھارت سرکار تھی۔
وہ چاہتی تھی کہ حسینہ زندگی بھر بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنی رہے تاکہ بنگلہ دیش اس کی مٹھی میں رہے۔ وہاں اس کا ہی حکم چلے اور پاکستان کے حمایتیوں کو ایسا سبق سکھایا جاتا رہے کہ وہ کبھی سنبھلنے کے قابل نہ ہو سکیں تاکہ کبھی بنگلہ دیش کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش نہ کر سکیں۔
اس وقت حسینہ واجد اپنی جان بچانے کے لیے دہلی میں غیر قانونی طور پر پناہ لیے ہوئے ہے۔ حالانکہ بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے بار بار اسے طلب کیا جاتا رہا کہ وہ واپس وطن آ جائے اور اس کے خلاف انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل میں جو مقدمہ چل رہا ہے اس میں اپنا دفاع کر سکے مگر وہ نہ پہنچی اور اب ٹریبونل کا فیصلہ آ چکا ہے، اس کو سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے۔
بنگلہ دیشی عبوری حکومت چاہتی تھی کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے، وہ اپنے خلاف 1400 بنگلہ دیشی شہریوں کے قتل کے مقدمے کا خود سامنا کرے مگر وہ نہ آئی چنانچہ اب ٹریبونل نے اسے جو سزا دی ہے، وہ اسے قبول کرے مگر وہ فیصلے کو یک طرفہ اور انصاف کے منافی قرار دے رہی ہے۔
اب اسے کیا پتا کہ مقدمے کے چلنے سے پہلے ہی بنگلہ دیش کا ہر نوجوان اسے سزا دینے کا مطالبہ کر رہا تھا اور حقیقت یہ ہے کہ اس نے احتجاجی نوجوانوں اور عوام کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا تھا۔ اس نے اپنا اقتدار بچانے کے لیے اپنے ہی ہم وطنوں کو لہو میں نہلا دیا تھا۔
حسینہ واجد 2009 سے 2004 تک یعنی پورے 15 سال بلا شرکت غیرے حکومت کرتی رہی۔ اس نے ہر پانچ سال بعد الیکشن کا ڈھونگ ضرور رچایا مگر ہر دفعہ دھاندلی اور ’’را‘‘ کی مدد سے کامیابیاں حاصل کرتی رہی۔ عوام اس کی آمرانہ حکومت سے سخت نالاں تھے مگر اسے عوام کی پروا نہیں تھی کیونکہ اسے پتا تھا کہ عوام اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ بھارتی ’’را‘‘ اس کی حفاظت کر رہی ہے۔
اسے اپنے دور میں قدم قدم پر بھارت سرکار کی مدد حاصل تھی، اس لیے کہ وہ بھارت کے ہر حکم کو بجا لاتی تھی۔ اس کے پورے دور میں بنگلہ دیش بھارت کا ایک صوبہ بن کر رہ گیا تھا اور حسینہ مودی کے لیے کسی بھارتی صوبے کی وزیر اعلیٰ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی، تاہم وہ عوام کے مفاد سے زیادہ بھارت کے مفاد کو اہمیت دیتی تھی، اس لیے کہ اسے پتا تھا کہ وہ بھارت کے رحم و کرم پر ہی حکومت کر رہی ہے۔
بنگلہ دیش کی دیگر سیاسی پارٹیاں اس کی اس حرکت پر تنقید کرتی تھیں مگر وہ خاص طور پر بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی سب سے بڑی دشمن تھی، اس کی سربراہ کو اکثر جیل میں قید رکھتی تھی۔ خالدہ ضیا کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ پاکستان سے بھی اچھے تعلقات قائم رکھنے کی حامی ہیں۔
حسینہ واجد ان لوگوں کو ضرور نوازنے میں لگی رہتی تھی جنھوں نے پاکستان کو توڑنے میں بھارت کی سرپرستی میں مکتی باہنی کا کردار ادا کیا تھا۔ حسینہ کا یہ بھی خیال تھا کہ اس کے برے وقت میں یہ لوگ اس کا ساتھ دیں گے مگر وقت آیا تو یہی لوگ پچھلے سال کی طلبا و عوامی تحریک کے غیض و غضب سے اسے بچانے کے بجائے خود بھارت بھاگ گئے۔
حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام میں عوام کا کم ہی حصہ تھا، اصل میں عوامی لیگی کارکنوں اور بھارت کی تیار کردہ مکتی باہنی نے وہاں قتل عام کا بازار گرم کر دیا تھا۔ مکتی باہنی کا ایک گروپ پاکستانی فوجیوں کی وردی میں ملبوس صرف بنگالیوں کا قتل عام کر رہا تھا تاکہ دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا جائے۔
جماعت اسلامی کے بنگالی رہنما اور کارکنان پاکستان کا دفاع کر رہے تھے مگر انھیں بھی بنگالیوں کے قتل عام کا ذمے دار قرار دیا گیا۔ بہرحال یہ بھارتی سازش کامیاب رہی۔ پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں اور کارکنوں پر جعلی مقدمات چلا کر پھانسی دے دی گئی۔
یہ دراصل بھارتی حکم پر ہوا تھا کہ بنگلہ دیش بننے کے بعد اسے پاکستان کی طرف سے کوئی خطرہ باقی نہ رہے مگر اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ آگ اور خون کا کھیل بھارتی ایما پرکیا گیا تھا، اب بنگلہ دیشی عوام پاکستان کو توڑنے کے بھارتی مذموم منصوبے سے پوری طرح واقف ہو چکے ہیں کہ انھیں مجیب کے ذریعے پاکستان سے علیحدہ کیا گیا چنانچہ اب وہ پاکستان کے قریب آ رہے ہیں۔
بنگلہ دیشی طلبا نے بھی اصل حقیقت جان کر مجیب کی بیٹی حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے اور اسے بنگلہ دیش سے نکال باہر کر دیا ہے۔ ویسے حسینہ واجد کو ذرا بھی گمان نہیں تھا کہ بنگلہ دیشی طلبا یا عوام اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے، کیونکہ وہ ان کے اس چہیتے بنگلہ بندھو کی بیٹی ہے جو خود کو بنگالیوں کا نجات دہندہ کہتا تھا۔
چنانچہ اس کے خلاف کوئی عوامی تحریک کیسے چل سکتی ہے، مگر اس کے ظلم اور ناانصافی نے پہلے طلبا اور پھر عوام کو اس کا ایسا دشمن بنا دیا کہ اگر وہ اپنے محل سے بھاگنے میں آدھے گھنٹے کی بھی دیر کردیتی تو عوامی ریلا جو اس طرف تیزی سے آ رہا تھا، اس کی تکہ بوٹی کر دیتا۔
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس نے عوام کا کتنا دل دکھایا تھا اور کتنی بڑی عوام کی دشمن تھی۔ اس کے بھاگنے کے بعد بھی طلبا اور عوام کا غصے سے بھرا ریلا بنگلے میں اسے نہ پا کر اس کے محل نما بنگلے پر ٹوٹ پڑا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
اب وہ مودی کے رحم و کرم پر بھارت میں پناہ گزیں ہے مگر ہٹ دھرم اتنی ہے کہ اپنے گناہوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور اب بھی بنگلہ دیش پر راج کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے جب کہ اب اس کا بنگلہ دیش میں گھسنا محال ہے۔
ڈھاکا میں انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل نے اسے سزائے موت دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت بھارتی حکومت سے اسے بنگلہ دیش بھیجنے کا کہہ چکی ہے مگر بھارتی حکومت اسے کیسے بنگلہ دیش کے حوالے کر سکتی ہے کیونکہ حسینہ واجد نے جو کچھ کیا ہے وہ بھارت سرکار کی ہدایت پر ہی کیا ہے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کے کہ بنگلہ دیش حسینہ واجد بنگلہ دیشی مگر وہ رہی ہے تھا کہ
پڑھیں:
بنگلا دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو کرپشن کے تین مقدمات میں 21 سال قید کی سزا
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default"> ویب ڈیسک
وہاج فاروقی