Express News:
2026-07-24@04:02:14 GMT

اب حسینہ واجد کا کیا بنے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

شیخ حسینہ بنگلہ دیش کے عوام کے غیض و غضب سے جان بچا کر ڈھاکا سے دہلی بھاگ گئی تھی، یہ 5 اگست 2024 کی بات ہے۔ حسینہ واجد نے 15 سال مسلسل بنگلہ دیش پر حکومت کی مگر ہر الیکشن میں ہار کر بھی کامیاب قرار دی جاتی رہی، اس لیے کہ پشت پر بھارت سرکار تھی۔

وہ چاہتی تھی کہ حسینہ زندگی بھر بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنی رہے تاکہ بنگلہ دیش اس کی مٹھی میں رہے۔ وہاں اس کا ہی حکم چلے اور پاکستان کے حمایتیوں کو ایسا سبق سکھایا جاتا رہے کہ وہ کبھی سنبھلنے کے قابل نہ ہو سکیں تاکہ کبھی بنگلہ دیش کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش نہ کر سکیں۔

اس وقت حسینہ واجد اپنی جان بچانے کے لیے دہلی میں غیر قانونی طور پر پناہ لیے ہوئے ہے۔ حالانکہ بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے بار بار اسے طلب کیا جاتا رہا کہ وہ واپس وطن آ جائے اور اس کے خلاف انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل میں جو مقدمہ چل رہا ہے اس میں اپنا دفاع کر سکے مگر وہ نہ پہنچی اور اب ٹریبونل کا فیصلہ آ چکا ہے، اس کو سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے۔

بنگلہ دیشی عبوری حکومت چاہتی تھی کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے، وہ اپنے خلاف 1400 بنگلہ دیشی شہریوں کے قتل کے مقدمے کا خود سامنا کرے مگر وہ نہ آئی چنانچہ اب ٹریبونل نے اسے جو سزا دی ہے، وہ اسے قبول کرے مگر وہ فیصلے کو یک طرفہ اور انصاف کے منافی قرار دے رہی ہے۔

اب اسے کیا پتا کہ مقدمے کے چلنے سے پہلے ہی بنگلہ دیش کا ہر نوجوان اسے سزا دینے کا مطالبہ کر رہا تھا اور حقیقت یہ ہے کہ اس نے احتجاجی نوجوانوں اور عوام کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا تھا۔ اس نے اپنا اقتدار بچانے کے لیے اپنے ہی ہم وطنوں کو لہو میں نہلا دیا تھا۔

حسینہ واجد 2009 سے 2004 تک یعنی پورے 15 سال بلا شرکت غیرے حکومت کرتی رہی۔ اس نے ہر پانچ سال بعد الیکشن کا ڈھونگ ضرور رچایا مگر ہر دفعہ دھاندلی اور ’’را‘‘ کی مدد سے کامیابیاں حاصل کرتی رہی۔ عوام اس کی آمرانہ حکومت سے سخت نالاں تھے مگر اسے عوام کی پروا نہیں تھی کیونکہ اسے پتا تھا کہ عوام اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ بھارتی ’’را‘‘ اس کی حفاظت کر رہی ہے۔

اسے اپنے دور میں قدم قدم پر بھارت سرکار کی مدد حاصل تھی، اس لیے کہ وہ بھارت کے ہر حکم کو بجا لاتی تھی۔ اس کے پورے دور میں بنگلہ دیش بھارت کا ایک صوبہ بن کر رہ گیا تھا اور حسینہ مودی کے لیے کسی بھارتی صوبے کی وزیر اعلیٰ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی، تاہم وہ عوام کے مفاد سے زیادہ بھارت کے مفاد کو اہمیت دیتی تھی، اس لیے کہ اسے پتا تھا کہ وہ بھارت کے رحم و کرم پر ہی حکومت کر رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی دیگر سیاسی پارٹیاں اس کی اس حرکت پر تنقید کرتی تھیں مگر وہ خاص طور پر بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی سب سے بڑی دشمن تھی، اس کی سربراہ کو اکثر جیل میں قید رکھتی تھی۔ خالدہ ضیا کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ پاکستان سے بھی اچھے تعلقات قائم رکھنے کی حامی ہیں۔

حسینہ واجد ان لوگوں کو ضرور نوازنے میں لگی رہتی تھی جنھوں نے پاکستان کو توڑنے میں بھارت کی سرپرستی میں مکتی باہنی کا کردار ادا کیا تھا۔ حسینہ کا یہ بھی خیال تھا کہ اس کے برے وقت میں یہ لوگ اس کا ساتھ دیں گے مگر وقت آیا تو یہی لوگ پچھلے سال کی طلبا و عوامی تحریک کے غیض و غضب سے اسے بچانے کے بجائے خود بھارت بھاگ گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام میں عوام کا کم ہی حصہ تھا، اصل میں عوامی لیگی کارکنوں اور بھارت کی تیار کردہ مکتی باہنی نے وہاں قتل عام کا بازار گرم کر دیا تھا۔ مکتی باہنی کا ایک گروپ پاکستانی فوجیوں کی وردی میں ملبوس صرف بنگالیوں کا قتل عام کر رہا تھا تاکہ دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا جائے۔

جماعت اسلامی کے بنگالی رہنما اور کارکنان پاکستان کا دفاع کر رہے تھے مگر انھیں بھی بنگالیوں کے قتل عام کا ذمے دار قرار دیا گیا۔ بہرحال یہ بھارتی سازش کامیاب رہی۔ پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں اور کارکنوں پر جعلی مقدمات چلا کر پھانسی دے دی گئی۔

یہ دراصل بھارتی حکم پر ہوا تھا کہ بنگلہ دیش بننے کے بعد اسے پاکستان کی طرف سے کوئی خطرہ باقی نہ رہے مگر اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ آگ اور خون کا کھیل بھارتی ایما پرکیا گیا تھا، اب بنگلہ دیشی عوام پاکستان کو توڑنے کے بھارتی مذموم منصوبے سے پوری طرح واقف ہو چکے ہیں کہ انھیں مجیب کے ذریعے پاکستان سے علیحدہ کیا گیا چنانچہ اب وہ پاکستان کے قریب آ رہے ہیں۔

بنگلہ دیشی طلبا نے بھی اصل حقیقت جان کر مجیب کی بیٹی حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے اور اسے بنگلہ دیش سے نکال باہر کر دیا ہے۔ ویسے حسینہ واجد کو ذرا بھی گمان نہیں تھا کہ بنگلہ دیشی طلبا یا عوام اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے، کیونکہ وہ ان کے اس چہیتے بنگلہ بندھو کی بیٹی ہے جو خود کو بنگالیوں کا نجات دہندہ کہتا تھا۔

چنانچہ اس کے خلاف کوئی عوامی تحریک کیسے چل سکتی ہے، مگر اس کے ظلم اور ناانصافی نے پہلے طلبا اور پھر عوام کو اس کا ایسا دشمن بنا دیا کہ اگر وہ اپنے محل سے بھاگنے میں آدھے گھنٹے کی بھی دیر کردیتی تو عوامی ریلا جو اس طرف تیزی سے آ رہا تھا، اس کی تکہ بوٹی کر دیتا۔

اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس نے عوام کا کتنا دل دکھایا تھا اور کتنی بڑی عوام کی دشمن تھی۔ اس کے بھاگنے کے بعد بھی طلبا اور عوام کا غصے سے بھرا ریلا بنگلے میں اسے نہ پا کر اس کے محل نما بنگلے پر ٹوٹ پڑا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

اب وہ مودی کے رحم و کرم پر بھارت میں پناہ گزیں ہے مگر ہٹ دھرم اتنی ہے کہ اپنے گناہوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور اب بھی بنگلہ دیش پر راج کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے جب کہ اب اس کا بنگلہ دیش میں گھسنا محال ہے۔

ڈھاکا میں انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل نے اسے سزائے موت دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت بھارتی حکومت سے اسے بنگلہ دیش بھیجنے کا کہہ چکی ہے مگر بھارتی حکومت اسے کیسے بنگلہ دیش کے حوالے کر سکتی ہے کیونکہ حسینہ واجد نے جو کچھ کیا ہے وہ بھارت سرکار کی ہدایت پر ہی کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کے کہ بنگلہ دیش حسینہ واجد بنگلہ دیشی مگر وہ رہی ہے تھا کہ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار