شیخ حسینہ کی برطرفی نے بنگلہ دیش میں بھارت کی مداخلت ختم کردی، بنگلہ دیشی صحافی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بنگلہ دیشی صحافیوں کے 8 رکنی وفد نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد بھارت کی سیاسی مداخلت میں واضح کمی آئی ہے اور ملک میں میڈیا کو پہلی بار نسبتاً آزادی میسر آئی ہے۔
یہ وفد اس وقت وزارتِ اطلاعات و نشریات کی دعوت پر پاکستان کے 7 روزہ دورے پر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی ہائی کمشنر کی ڈھاکا میں بنگلہ دیشی ایئرچیف سے ملاقات
وی نیوز کے دورے کے دوران مہمان صحافیوں نے پاکستان کے لیے اپنی محبت اور خیرسگالی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ایسے رابطے دونوں اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ویزا پالیسی نرم کی جائے تاکہ عوامی روابط بڑھیں اور ماضی کی تلخیوں کو کم کیا جا سکے۔
وی نیوز کے ڈائریکٹر نیوز خرم شہزاد، ایڈیٹر ان چیف وی نیوز انگلش سید محمد علی اور سینیئر اینکر متین حیدر سے گفتگو کرتے ہوئے وفد کے رکن مہدی حسن نے کہا کہ حسینہ واجد اب تاریخ بن چکی ہیں۔
ڈیلی امر دیش کے بشیر احمد نے کہا کہ حسینہ واجد بھارت کی سیاسی مداخلت کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی تھیں۔ ان کے مطابق حسینہ اور ان کے ساتھیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک بھارت سے چلائے جا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: 13 سال بعد ڈھاکا سے کراچی کے درمیان پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ
این ٹی وی کے صحافی عابِر احمد نے بتایا کہ 2013 میں ہونے والے ایکسٹریڈیشن معاہدے میں ایسی شرائط شامل ہیں جن کی آڑ میں بھارت حسینہ واجد کو حوالے کرنے سے انکار کر رہا ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان کا میڈیا مسلسل ریاستی اداروں اور حکومت سے مشکل سوالات کرتا ہے جب کہ بھارت میں ایسا ماحول نہیں ہے۔
سید محمد علی نے کہا کہ بھارتی میڈیا حکومتی بیانیے کا حصہ بن چکا ہے اور مسلسل پروپیگنڈا کرتا ہے، جبکہ پاکستان کا میڈیا زیادہ آزاد اور تنقیدی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مئی میں پاک بھارت فوجی کشیدگی کے دوران بھارت نے عالمی سطح پر جھوٹا بیانیہ پھیلایا، مگر ہم نے حقائق کے ساتھ اس کا جواب دیا جسے عالمی میڈیا نے تسلیم کیا۔
یہ بھی پڑھیے: شیخ حسینہ کے خلاف متوقع فیصلے سے قبل ڈھاکا سمیت 3 اضلاع میں فوجی دستے تعینات
بشیر احمد نے بتایا کہ حسینہ حکومت نے میڈیا کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ ان کے اخبار نے جب حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی رپورٹ شائع کی تو اخبار پر پابندی لگا دی گئی اور ایڈیٹر کو تین سال قید کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا، ‘حسینہ واجد بھارتی مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرتی تھیں اور جو میڈیا بھارت کے بیانیے کے مطابق نہ چلتا، اس پر پابندیاں لگتی تھیں۔ ان کی رخصتی کے بعد صحافیوں کو پہلی مرتبہ آزادی محسوس ہو رہی ہے’۔
عبیر احمد نے ایک حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر بنگلہ دیشی عوام پاکستان کے بارے میں مثبت خیالات رکھتے ہیں اور پاکستان آنا چاہتے ہیں۔ نوجوان نسل خاص طور پر پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رکھتی ہے اور بھارتی مداخلت کو سخت ناپسند کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چین کا بنگلہ دیش میں پٹ سن پر منحصر صنعتوں میں بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ
ایک اور صحافی نے تجویز دی کہ پاکستانی میڈیا کو کراچی میں مقیم بنگلہ دیشی کمیونٹی پر خصوصی پروگرام کرنے چاہئیں تاکہ بنگلہ دیش کے عوام ان کے بارے میں بہتر جان سکیں۔
بشیر احمد نے بتایا کہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو وہ ڈھاکا میں ایک یونیورسٹی ہاسٹل میں مقیم تھے جہاں طلبا نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ اسی طرح جب پاکستان نے رواں سال مئی میں بھارتی طیارے مار گرائے تو پورے بنگلہ دیش میں جشن منایا گیا۔
دورے کے اختتام پر وفد کے ارکان کو وی نیوز کی جانب سے اعزازی یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش دورہ پاکستان ڈھاکا صحافی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش دورہ پاکستان ڈھاکا صحافی پاکستان کے حسینہ واجد کہ پاکستان بنگلہ دیشی بنگلہ دیش نے کہا کہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔