بنگلہ دیشی صحافیوں کے 8 رکنی وفد نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد بھارت کی سیاسی مداخلت میں واضح کمی آئی ہے اور ملک میں میڈیا کو پہلی بار نسبتاً آزادی میسر آئی ہے۔

یہ وفد اس وقت وزارتِ اطلاعات و نشریات کی دعوت پر پاکستان کے 7 روزہ دورے پر ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستانی ہائی کمشنر کی ڈھاکا میں بنگلہ دیشی ایئرچیف سے ملاقات

وی نیوز کے دورے کے دوران مہمان صحافیوں نے پاکستان کے لیے اپنی محبت اور خیرسگالی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ایسے رابطے دونوں اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ویزا پالیسی نرم کی جائے تاکہ عوامی روابط بڑھیں اور ماضی کی تلخیوں کو کم کیا جا سکے۔

وی نیوز کے ڈائریکٹر نیوز خرم شہزاد، ایڈیٹر ان چیف وی نیوز انگلش سید محمد علی اور سینیئر اینکر متین حیدر سے گفتگو کرتے ہوئے وفد کے رکن مہدی حسن نے کہا کہ حسینہ واجد اب تاریخ بن چکی ہیں۔

ڈیلی امر دیش کے بشیر احمد نے کہا کہ حسینہ واجد بھارت کی سیاسی مداخلت کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی تھیں۔ ان کے مطابق حسینہ اور ان کے ساتھیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک بھارت سے چلائے جا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: 13 سال بعد ڈھاکا سے کراچی کے درمیان پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ

این ٹی وی کے صحافی عابِر احمد نے بتایا کہ 2013 میں ہونے والے ایکسٹریڈیشن معاہدے میں ایسی شرائط شامل ہیں جن کی آڑ میں بھارت حسینہ واجد کو حوالے کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان کا میڈیا مسلسل ریاستی اداروں اور حکومت سے مشکل سوالات کرتا ہے جب کہ بھارت میں ایسا ماحول نہیں ہے۔

سید محمد علی نے کہا کہ بھارتی میڈیا حکومتی بیانیے کا حصہ بن چکا ہے اور مسلسل پروپیگنڈا کرتا ہے، جبکہ پاکستان کا میڈیا زیادہ آزاد اور تنقیدی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مئی میں پاک بھارت فوجی کشیدگی کے دوران بھارت نے عالمی سطح پر جھوٹا بیانیہ پھیلایا، مگر ہم نے حقائق کے ساتھ اس کا جواب دیا جسے عالمی میڈیا نے تسلیم کیا۔

یہ بھی پڑھیے: شیخ حسینہ کے خلاف متوقع فیصلے سے قبل ڈھاکا سمیت 3 اضلاع میں فوجی دستے تعینات

بشیر احمد نے بتایا کہ حسینہ حکومت نے میڈیا کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ ان کے اخبار نے جب حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی رپورٹ شائع کی تو اخبار پر پابندی لگا دی گئی اور ایڈیٹر کو تین سال قید کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا، ‘حسینہ واجد بھارتی مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرتی تھیں اور جو میڈیا بھارت کے بیانیے کے مطابق نہ چلتا، اس پر پابندیاں لگتی تھیں۔ ان کی رخصتی کے بعد صحافیوں کو پہلی مرتبہ آزادی محسوس ہو رہی ہے’۔

عبیر احمد نے ایک حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر بنگلہ دیشی عوام پاکستان کے بارے میں مثبت خیالات رکھتے ہیں اور پاکستان آنا چاہتے ہیں۔ نوجوان نسل خاص طور پر پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رکھتی ہے اور بھارتی مداخلت کو سخت ناپسند کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چین کا بنگلہ دیش میں پٹ سن پر منحصر صنعتوں میں بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ

ایک اور صحافی نے تجویز دی کہ پاکستانی میڈیا کو کراچی میں مقیم بنگلہ دیشی کمیونٹی پر خصوصی پروگرام کرنے چاہئیں تاکہ بنگلہ دیش کے عوام ان کے بارے میں بہتر جان سکیں۔

بشیر احمد نے بتایا کہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو وہ ڈھاکا میں ایک یونیورسٹی ہاسٹل میں مقیم تھے جہاں طلبا نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ اسی طرح جب پاکستان نے رواں سال مئی میں بھارتی طیارے مار گرائے تو پورے بنگلہ دیش میں جشن منایا گیا۔

دورے کے اختتام پر وفد کے ارکان کو وی نیوز کی جانب سے اعزازی یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش دورہ پاکستان ڈھاکا صحافی.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش دورہ پاکستان ڈھاکا صحافی پاکستان کے حسینہ واجد کہ پاکستان بنگلہ دیشی بنگلہ دیش نے کہا کہ

پڑھیں:

عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کے بھارتی میڈیا چینلز پر انٹرویوز، مقصد کیا ہے؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں اور ان کی صحت کے معاملے کو لے کر افغانستان اور انڈیا کے میڈیا نے پراپیگنڈا شروع کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کل شب عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی نے متعدد بھارتی نیوز چینلز کو انٹرویوز دیے، ان چینلز میں اے این آئی بھی شامل تھا جو بھارت کی نیوز ایجنسی ہے اور اسے نریندر مودی کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ انٹرویو کے بعد نورین نیازی کے کلپس اے این آئی نے چلا کر پراپیگنڈا کیا۔

یہ بھی پڑھیے: لگتا ہے اڈیالہ جیل میں مارشل لا لگا ہوا ہے، عمران خان کی بہن نورین نیازی بھی سامنے آگئیں

اے پی بی نیوز جسےانتہا پسند جماعت پی جی پی کا ماؤتھ پیس سمجھا جاتا ہے، نے بھی نورین نیازی کا انٹرویو نشر کیا۔

اس کے علاوہ این ڈی ٹی وی، نیوز9 اور این ڈی ٹی وی انگلش پر بھی عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر نورین نیازی کے انٹرویوز نشر ہوئے۔ ان انٹرویوز کے بعد پاکستان مخالف بھارتی صحافی ارناب گوسوامی اور برکھادت نے بھی ان انٹرویوز کی بنیاد پر پروگرام کیے اور پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مئی میں پاک انڈیا جنگ کو علیمہ خان نے ڈراما بازی قرار دیا تھا۔

نورین نیازی کے بھارتی میڈیا پر انٹرویوز کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور ماہرین کے مطابق پاکستان کے اندرونی مسائل کو بین الاقوامی محاذ پر لے جانے کا مقصد پاکستان کے خلاف ملک دشمن عناصر کو صف بندی کرنے کا جواز مہیا کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کے بھارتی میڈیا چینلز پر انٹرویوز، مقصد کیا ہے؟
  • بنگلہ دیش ایڈوائزری کونسل کا اجلاس، این جی اوز کے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کا فیصلہ
  • عمران خان فیک نیوز ، بھارت اور افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس ملوث ہیں، دفتر خارجہ
  • امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی واپس، ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا خرچ کیے
  • بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کو 3 کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا
  • شیخ حسینہ واجد کی حوالگی، بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست پر غور شروع کردیا
  • بنگلا دیشی حکام نے حسینہ واجد کے بینک لاکرز میں موجود 10کلو سونا ضبط کرلیا
  • بنگلہ دیشی حکام نے حسینہ واجد کے بینک لاکرز میں موجود 10کلو سونا ضبط کرلیا
  • حسینہ واجد کے بینک لاکرز سے برآمد ہونے والا 10 کلو سونا ضبط