Express News:
2026-06-03@08:41:25 GMT

جمہور

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

پارلیمنٹ رائے عامہ کی ترجمان ہوتی ہے، عوامی رائے کی عکاس ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ جو قانون سازی کرتی ہے، اس میں عوام کی رائے شامل ہوتی ہے۔ اکثریتی رائے سے قانون سازی کی جاتی ہے اور آئین میں ترمیم دو تہائی اکثریت سے کی جاتی ہے۔

اقلیتی رائے، جو شاید پہلے اکثریتی رائے کا درجہ رکھتی ہو یا پھر آگے جاکر دوبارہ اکثریتی رائے میں تبدیل ہو، وہ فی الحال موجودہ اکثریتی رائے کو تسلیم کرتی ہے۔ اسے کہتے ہیں جمہور جس کی بنیادوں پر پروان چڑھتا ہے جمہوری نظام۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پارلیمان ہی جمہوری اقدارکی عکاس نہ ہو تو؟ یعنی انتخابات شفاف نہ ہوئے ہوں تو؟ شفاف انتخابات نہ ہونے کے بہت سے مظہر ہیں۔ ایک تو انتخابات میں دھاندلی کا سہارا لیا جاتا ہے، یعنی بیلٹ باکس پر قبضہ کر کے اور ٹھپے پر ٹھپہ لگائیں اور خود وہ لوگ یہ کام کریں جو مختلف سرکاری محکموں سے انتخابات کے لیے نامزد کیے جاتے ہیں۔

جیسا کہ اساتذہ، ڈاکٹرز یا پھر صوبائی و وفاقی محکموں کے افسر۔ انتخابات کا یہ نظام ہندوستان میں رائج نہیں، وہاں الیکشن کمیشن کی اوپری سطح سے لے کر نچلی سطح تک اپنی افرادی قوت ہے جو ان کے مستقل ملازمین ہیں، یہاں پر انتخابات میں ایک دھاندلی تو مستقل نوعیت کی ہے، الیکٹبلزکی شکل میں، یعنی جدی پشتی ووٹ لینے والے یا پھر ایسا کہیے کہ ووٹر ان کی غلامی میں ہوتے ہیں لٰہٰذا وہ اپنی آزاد رائے دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔

Independence Act, 1947 کے تحت پاکستان وجود میں آیا اور اس کو 15-08-1947نافذ العمل کیا گیا۔ اس ایکٹ کے تحت ہندوستان آزاد ہوا، اور وہ اپنا آئین اسمبلی فریم کرے گا، جب کہ پاکستان میں 1947 کی اسمبلی ایک آئین ساز اسمبلی تھی۔

انتخابات چونکہ بالغِ رائے دہی سے نہیں ہوئے تھے، نہ ہی کانگریس بالغِ رائے دہی سے جیتی تھی اور نہ ہی مسلم لیگ۔ Government of India Act 1935 کے تحت ہونے والے 1937 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے شکست کھائی تھی اور یہیں سے قیام پاکستان کی راہ ہموار ہوئی۔

ہندوستان میں جواہر لعل نہرو تین بار وزیرِ اعظم بنے ۔ ہندوستان کا آئین بنا ، وہاں لینڈ ریفارمز آگئیں اوروہاں رجواڑوں کا خاتمہ ہوا۔

نہرو کی زندگی تک عدالتیں خاموش رہیں، اس کے انتقال کے بعد عدالتیں آزاد ہوئیں، متحرک ہوئیں اور عدالتوں نے جوڈیشل ایکٹو ازم کا استعمال کرنا شروع کیا، جس کے تحت کیشوہ نندا کیس میں Separation of powers کو وضع کیا گیا۔

اندرا گاندھی نے ہندوستان میں ایمرجنسی نافذ کی جو نیم مارشل لاء کی صورت تھی لیکن عدالت اور وہاں کی سول سوسائٹی اور جمہوری قوتوں نے مل کر اس کو ناکام بنایا۔1949 میں بنے آئین نے بلآخر 1973 تک آئین کی تشریح کر کے عدلیہ کی آزادی پا لی۔

ہندوستان میں انتخابات پارلیمان کے لیے 1951 میں بالغ رائے دہی کے ذریعے ہوئے، جب کہ پاکستان میں پہلے انتخابات بالغ حقِ رائے دہی کے تحت 1970 میں ہوئے اور اس وقت تک ہمارے پاس کوئی آئین موجود نہ تھا۔

1949 میں ہندوستان نے بالغ رائے دہی کے آفاقی حق کو مان لیا تھا۔ ہمارے ہاں قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی کے ووٹ پر بنتی تھی نہ کہ عوام کی رائے سے بنتی تھی۔1970 تک یہاں پارلیمان عوام کی نمایندہ پسندیدہ نہیں تھی، جو اسمبلی تھی وہ indirectly جیت کر آئی تھی۔

جنرل ایوب نے لوکل باڈیز کے ووٹوں پر اسمبلی بنائی۔ جنرل ضیا الحق نے مجلسِ شوریٰ بنائی اور جنرل یحییٰ نے پہلی مرتبہ بالغ رائے دہی سے انتخابات کروائے اور یہ انتخابات آئین ساز اسمبلی کے لیے ہوئے، کیونکہ اس وقت تک ہمارے پاس کوئی آئین موجود نہ تھا۔

ہمیں جو 1947کے ذریعے جو مینڈیٹ ملا تھا ہم نے اس مینڈیٹ سے انحراف کیا۔ جیسا کہ غالب کہتے ہیں:

کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

اور اسی طرح اتھارٹی نے اپنی راہیں خود ہی متعین کر لیں، کیونکہ نئے ملک بننے سے اتھارٹی مل گئی تھی اور اس اتھارٹی کی تقسیم ہونی تھی آئین کے تحت اور وہ ہمارے ملک میں موجود ہی نہ تھا۔ 1949 کی اسمبلی نے جو قرارداد مقاصد دی، وہ بھی آئین سے انحراف تھا۔

فی الحال عوام کو دل بہلانے کا بہانہ دیا اور اسی بہانے کو ہتھیار بنا کر جنرل ضیا الحق نے اپنے اقتدار کو طول دیا، وہ آئین کے اندر ترمیم کر کے آرٹیکل 2A کی شکل میں لے کر آئے اور ایسے Articles نے 1973 کے آئین کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ اتھارٹی جو آئین بناتی ہے، وہ آئین سے پہلے بن گئی اور جب آدھا ملک گنوانے کے بعد آئین ملا تو اتھارٹی نے آہستہ آہستہ اپنا کام کیا اور آئین کے اندر 58(2)(b) کی شکل میں موجود رہی۔

 1947کے بعد جو بھی کمزور سول حکومت بنی، جو بھی اتھارٹی بنی، جیسا کہ ایوب خان کا مارشل لاء، جمہوری قوتوں کا فاطمہ جناح کی قیادت میں ابھرنا، یحییٰ کا مارشل لاء، آئین ساز اسمبلی کے لیے انتخابات ہوئے، شیخ مجیب کا انتخابات میں جیت جانا اور آئین کو بنانے جانا۔

اتھارٹی جن کے پاس آچکی تھی، انھوں نے شیخ مجیب کو راستے سے ہٹایا۔ بھٹو جو عوامی لیڈر تھے، ان کے لیے پنجاب میں پاپولر لیڈر رہنے کے لیے اسی بیانیے سے انحراف کرنا ناممکن تھا۔

جعفر جمالی جیسے چند سردار تھے جو فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے رہے اور ان کو سبق سکھانے کے لیے جنرل ایوب کچھ ایسی زرعی اصلاحات لے آئے جس کی بناء پر صرف جعفر جمالی کو اپنی ہزاروں ایکڑ زمین سے ہاتھ دھونے پڑے۔

حاصل بزنجو صاحب ہمیں یہ بتاتے تھے کہ جعفر جمالی نے اپنے قبیلے کے چند معززین کو بلا کر یہ کہا کہ ’’ ہم جس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے حق میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ آمریت کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیں۔‘‘ جنرل مشرف بھی انتخابات کروانے کے بعد اقتدار کی کرسی پر چڑھ کر بیٹھ گئے، تب جعفر جمالی کا تسلسل تھے ظفر اللہ جمالی۔

 جو غیر آئینی اتھارٹی بنی وہ آئین دشمن تو تھی مگر معاشرے کے اس اسٹرکچر میں یہی وڈیرے، پیر، سردار اور خان تھے جو اسمبلیوں میں پہنچ سکتے تھے۔ جہانگیر ترین نے اپنے انٹرویو میں اس بات کو تسلیم کیا کہ اگر اقتدار حاصل کرنا ہے تو شرفاء کو اپنی پارٹی میں شمولیت دینی ہوگی اور یہی مشورہ انھوں نے بانی پی ٹی آئی کو بھی دیا تھا کہ صرف مڈل کلاس سیاست سے ہمیں اقتدار حاصل نہ ہوگا۔

حقیقی مڈل کلاس سیاست اگر کوئی کر رہا تھا تو وہ تھی ایم کیو ایم جن کی سیاست کا محور تھا کراچی اور حیدرآباد اور انھیں بھی اقتدار میں رہنے کے لیے اس اتھارٹی کے ساتھ رہنا پڑتا تھا جو اتھارٹی آئین پر چلنے کی قائل نہ تھی۔

1947 میں ملک بن چکا تھا۔ اس ملک کا وجود کسی پانی پت کے میدان میں دو لشکروں کے صف آراء ہونے کے بعد معرضِ وجود میں نہیں آیا تھا بلکہ انتخابات، ریفرنڈم اور قلات اسمبلی کی قرارداد کے نتیجے میں یہ ملک بنا۔

اس اتھارٹی کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے آئین فی الفور ہی بنانا تھا، آئین ترتیب نہ ہو سکا اور جن لوگوں کو ملک کی باگ ڈور دی گئی وہ کمزور تھے، یہ خلاء بھر نہ سکا۔ مضبوط سوسائٹی آئین کی عکاس ہوتی ہے، لٰہذا آئین کے لیے ایسی سوسائٹی کا ہونا لازمی ہے۔

آئین میں ترامیم کے لیے ضروری ہے کہ جو اسمبلی بنی ہے وہ شفاف انتخابات کے ذریعے بنی ہو، یہاں پر ماجرا ہی کچھ اور ہے۔

2018 کے انتخابات بدترین دھاندلی کا نتیجہ تھے۔2024 کے انتخابات شفافیت کے کسی مرحلے سے نہیں گزرے، ہمارا الیکشن کمیشن جب تک ہندوستان کے الیکشن کمیشن کے قدم پر نہیں چلتا ، تب تک یہ مینڈیٹ ایسے ہی چوری ہوتا رہے گا۔

دوسرا یہ کہ جہاں بھی الیکٹبلز ہوںگے وہاں دھاندلی ہوگی۔ اس پورے سیاسی منظر نامے میں ہم اپنے ملک کی معیشت کو کس طرح سے مضبوط بنا سکتے ہیں، کیونکہ خان، وڈیرے، پیر اور سردار ہماری مجبوری ہیں اور یہ طبقہ بھلے ہی کسی پارٹی کا حصہ ہوں مگر ان کی وفاداریاں کسی اور کے ساتھ ہوتی ہیں۔

ستائیسویں ترمیم کے باعث نظام عدل میں تبدیلی آئی ہے۔ اس ترمیم سے پہلے جو انیسویں ترمیم آئین کے اندر لائی گئی، وہ ترمیم بھی کمپرومائزڈ تھی، ورنہ ہمیں اٹھارہویں ترمیم سے ہاتھ اٹھانا پڑتا۔

جنرل ضیاء الحق نے بھی ایک ریفرنڈم کرایا تھا اور اس ریفرنڈم کے نتیجے میں خود کو پانچ سال کے لیے ملک کا صدر بھی مان لیا تھا۔ ہم نے ہمیشہ عوام کے مینڈیٹ کو قبول کر نے سے انکار کیا اور کیا کیا نہیں ہوا؟ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس اسمبلی کے پاس اتنا مینڈیٹ ہے کہ آئین میں ترامیم کرسکیں ؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہندوستان میں انتخابات میں اکثریتی رائے جعفر جمالی اسمبلی کے رائے دہی ا ئین کے کے لیے ا ہوتی ہے اور اس میں یہ کے بعد اور یہ کے تحت

پڑھیں:

اسپیکر سردار ایاز صادق کی اصلاحاتی پالیسیوں سے قومی اسمبلی کے اخراجات میں نمایاں کمی

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے متعارف کرائی گئی کفایت شعاری اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں ریکارڈ مالی بچت سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران نہ صرف اربوں روپے کی بچت ہوئی بلکہ ادارے کو جدید، ڈیجیٹل اور مؤثر نظام کی طرف بھی گامزن کیا گیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں کفایت شعاری، مالی نظم و ضبط اور جدید انتظامی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، جن کے باعث ادارے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔

پارلیمانی نظام کو پیپر لیس پارلیمنٹ کے وژن کی جانب تیزی سے لے جایا جا رہا ہے، جبکہ پارلیمانی امور کی ڈیجیٹلائزیشن سے اخراجات میں نمایاں کمی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی ہے۔

قومی اسمبلی کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے مزین ادارہ بنانے کی سمت بھی پیش رفت جاری ہے۔ انتظامی ڈھانچے کی بہتری کے ذریعے قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اصلاحاتی اقدامات کے تحت اسامیوں کی تعداد 1725 سے کم کر کے 1344 کر دی گئی ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے دوران مزید 80 اسامیوں کے خاتمے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

بیان کے مطابق ملازمین اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں کے بجٹ میں اصلاحات کے ذریعے 2 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس پورے اصلاحاتی عمل کے دوران کسی بھی ملازم کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا گیا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ بہتر مالی نگرانی اور کفایت شعاری کی پالیسی کے باعث مجموعی طور پر اربوں روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے۔ کاغذ اور ریکارڈ مینجمنٹ کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

جدید انتظامی نظام کے نفاذ سے فیصلہ سازی اور دفتری امور میں بہتری آئی ہے، جبکہ سرکاری ٹرانسپورٹ اور سفری اخراجات کے مؤثر انتظام کے ذریعے بھی نمایاں بچت حاصل کی گئی ہے۔

انتظامی اصلاحات کے ذریعے مزید 2.5 ارب روپے کی بچت ریکارڈ کی گئی ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال قومی اسمبلی کی اولین ترجیح ہے اور پارلیمنٹ مالی نظم و ضبط اور اچھی حکمرانی کی عملی مثال بن رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اصلاحاتی عمل قومی اسمبلی کو ایک جدید، مؤثر اور عوام دوست ادارہ بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر سردار ایاز صادق کی اصلاحاتی پالیسیوں سے قومی اسمبلی کے اخراجات میں نمایاں کمی
  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب