کابل: افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمت زور پکڑے ہوئے ہے، جہاں دو سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس  کے مطابق ان حملوں میں کم از کم آٹھ طالبان ہلاک اور چار زخمی ہوئے، حملے عبداللہ خیل وادی کے منجنستو علاقے میں صبح تقریباً 7:40 بجے ہوئے، جہاں طالبان کا ایک مرکزی آؤٹ پوسٹ واقع ہے،  دھماکے ایسے کمپاؤنڈ میں ہوئے جو مولوی ملک کے نام سے جانے جانے والے شخص کی ملکیت میں ہے،  دھماکوں کے بعد طالبان نے وادی کے کچھ حصوں کو سیل کر دیا، راستے بند کیے اور مقامی لوگوں سے پوچھ گچھ شروع کی۔

تاحال کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی اور طالبان حکام کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا،  ملک کے دیگر حصوں میں طالبان کے خلاف کارروائیوں میں داعش خراسان متحرک ہے جبکہ پنجشیر میں مقامی مزاحمتی گروپ سرگرم ہیں۔

خیال رہےکہ  تاریخی طور پر پنجشیر وادی طالبان کی حکومت کے خلاف مزاحمت کا مرکز رہی ہے۔ 70 اور 80 کی دہائی میں سویت یونین کے خلاف محمود درہ وادی کی مزاحمت اور بعد ازاں احمد شاہ مسعود کی قیادت میں شیر پنجشیر کی تحریک نے طالبان کی پہلی حکومت کے دوران بھی وادی کی علیحدہ حیثیت قائم رکھی۔

اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی پنجشیر میں مزاحمت جاری ہے اور گزشتہ ایک سال میں وادی میں بار بار دھماکے اور حملے دیکھنے میں آئے ہیں جو طالبان کے مضبوط قبضے کے باوجود مزاحمت کی علامت ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل طالبان کے کے خلاف

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری