اسلام آبادجی الیون کچہری کے باہرخود کش دھماکے میں 2وکلاء بھی شہید
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آبادجی الیون کچہری کے باہرخود کش دھماکے میں 2وکلاء بھی شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)کچہری کے باہر خودکش دھماکہ خودکش دھماکے میں 2 وکلاء شہید ہوگئے، ذرائع کے مطابق شہید ہونے والے ایک وکیل کی شناخت زبیر گھمن کے نام سے ہوئی ہے
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جی الیون کچہری کے باہر بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج کے خودکش دھماکے میں 12افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکہ کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ آئے۔
ابتک کی رپورٹ کے مطابق پانچ شہید اور تیرہ سے 14 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، مبینہ خودکش بمبار کر سر سڑک پر پڑا ہوا مل گیا۔
اسلام آباد کچہری دھماکے کے بعد پمز اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
ریسکیو 1122 اور دیگر ایمبولینسز سے زخمیوں کی پمز منتقلی کا سلسلہ جاری ہے، اس کے علاوہ پولیس کی گاڑیوں میں بھی زخمیوں کی پمز منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔
پولیس کی بھاری نفری بھی پمز اسپتال پہنچ گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمولانا فضل الرحمان کی اپنے ارکان اسمبلی کو 27 ویں ترمیم کیخلاف ووٹ دینے کی ہدایت مولانا فضل الرحمان کی اپنے ارکان اسمبلی کو 27 ویں ترمیم کیخلاف ووٹ دینے کی ہدایت اسلام آباد کچہری کےباہر افغان طالبان پراکسی فتنہ الخوارج کاخودکش دھماکا، 12افراد شہید، متعدد زخمی اسلام آباد ہائی کورٹ کا سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ معطل اسلام آباد: کچہری کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں سلینڈر دھماکا، وکلا اور سائلین زخمی نئی دہلی دھماکہ: بھارتی سیاسی رہنما اور صحافیوں نے واقعہ کو “انتخابی فالس فلیگ” قرار دے دیا وانا کیڈٹ کالج میں موجود 3 خوارج کے افغانستان سے رابطے، فورسز کا آپریشنCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دھماکے میں کچہری کے اسلام ا
پڑھیں:
بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔
عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔