اسلام آباد کچہری کےباہر دھماکا، 12 افراد شہید، مبینہ خودکش بمبار کا سر سڑک پر پڑا ہوا مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد جی الیون کچہری کے باہر بھارتی حمایت یافتہ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنۃ الخوارج کے خودکش دھماکے میں 9 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکا کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ آئے۔
ابتک کی رپورٹ کے مطابق 9 شہید اور 21 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، مبینہ خودکش بمبار کا سر سڑک پر پڑا ہوا مل گیا۔
اسلام آباد کچہری دھماکے کے بعد پمز اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
ریسکیو 1122 اور دیگر ایمبولینسز سے زخمیوں کی پمز منتقلی کا سلسلہ جاری ہے، اس کے علاوہ پولیس کی گاڑیوں میں بھی زخمیوں کی پمز منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔
پولیس کی بھاری نفری بھی پمز اسپتال پہنچ گئی ہے، پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد کچہری میں دھماکا مبینہ طور پر خودکش تھا، خودکش حملہ آور نے کچہری میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ کچہری میں داخل نہ ہونے پر اس نے خود کو پولیس کی گاڑی کے پاس بلاسٹ کر دیا، فورنزک ٹیم کو بھی جائے وقوع پر بلا لیا گیا، زخمی ہونے والوں میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ اسلام آباد دھماکے میں 9 لاشوں کو پمز اسپتال منتقل کر دیا گیا، اسلام آباد پمز اسپتال میں 21 زخمیوں کو ایمرجنسی میں منتقل کر دیا گیا، پمزمیں زیرعلاج زخمیوں میں 4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی اسلام آباد کچہری پہنچ گئے،
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد پمز اسپتال
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔