ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب اب تک نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام سے محروم ہے۔ الیکشن کمیشن نے ایک دفعہ پھر اس سال دسمبر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا مگر پنجاب کی حکومت نے ایک نیا بلدیاتی قانون نافذ کردیا۔ اس نئے قانون میں بلدیاتی اداروں کی ہیت اور ان اداروں میں عوامی نمایندگی کا تناسب تبدیل ہوا، یوں اب الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیوں کا ٹاسک مل گیا ہے۔
اس بناء پر دسمبر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات پھر ملتوی ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے ہینڈ آؤٹ میں نئی حلقہ بندیوں کے کام کی تکمیل اور نئے انتخابات کی حتمی تاریخ کے بارے میں خاموشی اختیارکی گئی ہے۔ اس بناء پر اگلے سال پنجاب کے عوام کو نچلی سطح تک بااختیار بلدیاتی نظام میسر آسکے گا؟ اس سوال کا جواب کسی نجومی کے پاس نہیں ہے۔
بلدیاتی امورکے ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام کو بیوروکریسی کے تابع کردیا گیا ہے اور بلدیاتی نظام پر عوامی اداروں کی بالادستی کے تصورکو قانونی شکل نہیں دی گئی۔ اس نئے قانون کے تحت بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد ہوںگے مگر منتخب اراکین کو ایک ماہ کے اندرکسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنی ہوگی۔ اس قانون کے تحت وارڈ سسٹم ختم ہوجائے گا اور ہر یونین کونسل سے 9 اراکین منتخب ہوں گے۔ ان 9 ارکان پر بھاری ذمے داری عائد ہوگی، یہ 9 اراکین چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب کریں گے۔
پھر یہی ارکان ریزرو نشستوں کا انتخاب کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی چیئرمین شپ کا روٹیشن شپ کا طریقہ نافذ ہوگا اور 6ماہ بعد چیئرمین شپ تبدیل ہوجائے گی۔ اگرچہ ڈسٹرکٹ کمیٹی کا چیئرمین عوامی نمایندہ ہوگا مگر ضلع کا ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ کمیٹی کا کوچیئرمین ہوگا۔ پھر ہر 6 ماہ بعد آبادی کے تناسب سے سب سے بڑے بلدیاتی ادارے کا سربراہ چیئرمین بنے گا اور یہ روٹیشن مسلسل جاری رہے گی۔
آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت منتخب بلدیاتی اداروں کا قیام لازمی ہے۔ اس قانون کے تحت بلدیاتی اداروں کے چیئرمین کی 6ماہ بعد تبدیلی سے منتخب اراکین کی اتھارٹی قائم نہیں ہوسکے گی اور کوئی بھی چیئرمین مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے بیوروکریسی کا محتاج ہوگا۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 6 ماہ بعد آنے والے چیئرمین کی پالیسی مختلف ہوئی اور اس کی ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات مختلف ہوئیں تو اس طرح کے تضادات سے ترقی کا عمل متاثر ہوگا۔ پھر عجب منطق اس قانون میں شامل کی گئی ہے کہ پہلے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوںگے۔ سیاسی جماعتیں کسی امیدوار کو اپنا نمایندو نامزد نہیں کرسکیں گی، مگر ایک ماہ بعد ان نمایندوں کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
سیاست سے دلچسپی رکھنے والا ایک عام آدمی بھی جانتا ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف بھی بڑا ووٹ بینک رکھتی ہے۔ 2024کے انتخابات کے وقت الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے اندرونی انتخابات کو تسلیم نہیں کیا تھا، اس بنا پر تحریک انصاف بطور پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لے سکی تھی اور یوں پارٹی کے امیدواروں کے پاس کوئی نشان نہیں تھا۔ پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے، بعد میں ان آزاد ارکان نے سنی اتحاد کونسل جوائن کرلی تھی ۔ بعد میں پھر آئینی تنازعہ پیدا ہوا، یوں اب الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے تمام منتخب اراکینِ پارلیمنٹ کو آزاد ارکان قرار دیا ہے۔
پنجاب کے بلدیاتی قانون کی اس شق کے تحت ہر منتخب رکن کو ایک ماہ بعد کسی نہ کسی جماعت ( الیکشن کمیشن کی رجسٹرڈ شدہ) میں شمولیت اختیار کرنا ہوگی اور جو اراکین اس میں ناکام رہے تو انھیں اپنی نشست سے محروم ہونا پڑے گا۔ اس صورت میں ان اراکین کو منتخب کرنے والے ووٹرز کا بنیادی حق سلب ہوجائے گا۔ یہ طریقہ کار جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی نفی ہوگا۔ اسی طرح اراکین کا مخصوص نشستوں کے امیدواروں کے انتخاب کا طریقہ کار بھی جمہوری اصولوں سے متصادم ہے۔ ان مخصوص نشستوں میں اقلیتوں کے نمایندوں کا بھی انتخاب شامل ہے۔ کچھ دانشوروں کا کہنا ہے کہ ہر ووٹرکو منتخب نشستوں کے امیدواروں کو منتخب کرنے کا حق ہے۔
سماجی کارکن پیٹر جیکب کی ساری زندگی مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے گزری ہے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے انسانیت کے لیے خدمات پر پیٹر جیکب کو خصوصی اعزازات سے نوازا ہے۔ پیٹر جیکب نے موجودہ قانون پر یوں غیر جانبدارانہ تبصرہ کیا ہے۔ ’’ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ2025 اس ضمن کے دیگر قوانین کے مقابلے میں اور شراکتی و جمہوری نمایندگی کے تمام تقاضے تو پورے نہیں کرتا لیکن مخصوص نشستوں پر انتخاب براہِ راست نہ ہونے میں کوئی مذہبی امتیاز نہیں پایا جاتا ہے۔ مذہبی امتیاز تب کہا جائے گا جب مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے یا امیدوار ہونے پرکوئی پابندی عائد کر دی جائے۔
جیسے صدر مملکت اور وزیرِاعظم کے چناؤکے لیے مذہبی اقلیتوں کے امیدوار ہونے پر پابندی آئین پاکستان کا حصہ ہے۔‘‘ پیٹر جیکب کے مختصر اور جامع تبصرے نے اس قانون کے افلاس کو آشکارکردیا ہے۔ شہروں کی ترقی پر تحقیق کرنے والے بہت سے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے ماڈلز نے ترقی کے عمل کو تیز کیا اور غربت کا خاتمہ ہوا۔ دنیا بھر میں تمام جمہوری ممالک میں نچلی سطح تک اختیار کے بلدیاتی نظام نے نہ صرف شہروں کو ترقی دی بلکہ اس نظام کے ذریعے جمہوری نظام کو بھی استحکام حاصل ہوا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت برطانیہ کے سیاسی نظام کا جائزہ لیا جائے کہ برطانیہ میں ایک مضبوط پارلیمانی نظام قائم ہے۔ وزیر اعظم اورکابینہ مکمل طور پر بااختیار ہیں۔
اس نظام میں کاؤنٹی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، یہ کاؤنٹی تمام قسم کے شہری امور انجام دیتی ہیں۔ برطانیہ میں سیاسی قیادت بھی کاؤنٹی سے ابھرتی ہے۔ اس وقت برطانیہ میں سب سے طاقتور شخصیت وزیر اعظم کی ہوتی ہے مگر دوسرے نمبر پر لندن کے میئر ہوتے ہیں۔ لندن کے میئر کو ہر قسم کے اختیارات حاصل ہیں۔ لندن کے میئر پاکستانی نژاد صادق علی خان اتنے مضبوط ہیں کہ امریکا کے صدر ٹرمپ کی شدید مخالفت کے باوجود ان کے اختیارات پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ اتنا ہی طاقتور نیویارک کا میئر ہے۔
نیویارک کے میئر کے لیے ایک بھارتی نژاد مسلمان ظہرین ممدانی کامیاب ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ممدانی کو کمیونسٹ قرار دے کر انھیں ہرانے کی کوشش کی تھی۔ برطانیہ اور امریکا کا ہی ذکر کیا، چین میں بھی شہروں میں ترقی کی بنیاد کاؤنٹی کا نظام ہے۔ چین میں اس وقت 2ہزار 800 کاؤنٹی (ڈویژن) ہیں۔ یہ ڈویژن مکمل طور پر خود مختار ہیں۔ اس نظام کی بنیاد پر چین میں ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔
ملک میں کئی غیر سرکاری تنظیموں کے اراکین جو جنوبی پنجاب کے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کام کررہے تھے کا کہنا تھا کہ ایک مؤثر بلدیاتی نظام کے ذریعہ سیلاب زدگان کی مدد کا کام زیادہ بہتر انداز میں ہوسکتا ہے۔ پھر جمہوری اداروں کو نئی قیادت فراہم کرنے کے لیے بھی بلدیاتی نظام ضروری ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ یہ قیادت Visionaryذہن کی مالک ہے۔ پنجاب اسمبلی نے بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ دینے کی جو قرار داد منظورکی ہے، وہ ایک خوش آیند قدم ہے، وفاقی حکومت کو اس قرارداد پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ نچلی سطح تک کا بااختیار بلدیاتی نظام شہروں کی ترقی کا ضامن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلدیاتی اداروں بلدیاتی نظام الیکشن کمیشن تحریک انصاف نچلی سطح تک کے بلدیاتی کے امیدوار پیٹر جیکب قانون کے کا کہنا نے والے ماہ بعد کے میئر کے تحت کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔