Juraat:
2026-07-24@02:46:57 GMT

دہشت گردوں کا کیڈٹ کالج پر حملہ ناکام،2خوارج مارے گئے

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

دہشت گردوں کا کیڈٹ کالج پر حملہ ناکام،2خوارج مارے گئے

حملہ اور دہشت گردوں نے کیڈٹ کالج وانا کی بیرونی دیوار پار کرنے کی کوشش کی
چوکس سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں دہشتگردوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، آئی ایس پی آر

جنوبی وزیرستان میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا کیڈٹ کالج پر حملہ ناکام بنا دیاگیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ اور دہشت گردوں نے کیڈٹ کالج وانا کی بیرونی دیوار پار کرنے کی کوشش کی۔چوکس سیکورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی کے نتیجے میں دہشت گردوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور بہادری سے کارروائی میں 2 دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ 3 دہشت گرد کالج کے ایڈمن بلاک میں محصور ہیں جس کیلئے کلیٔرنس آپریشن جاری ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد افغانستان میں موجود اپنے آقاؤں سے رابطے میں ہیں۔کیڈٹ کالج وانا پر حملہ آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحے کو دہرانے کی مذموم کوشش تھی۔دہشت گردوں کا مقصد سابقہ قبائلی علاقوں کے نوجوانوں میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی طالبان رجیم کے دعوؤں کی نفی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کو افغانستان میں موجود دہشت گردوں اور ان کی قیادت کے خلاف کارروائی کا حق ہے۔”عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پاکستان سے دہشت گردی کی جڑیں اکھاڑنے کیلئے پرعزم ہیں۔پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے کیلئے متحد ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر کے مطابق کیڈٹ کالج

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار