26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان کے نویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے نویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے۔
علیمہ خان سمیت 11 ملزمان پر 26 نومبر احتجاج کے مقدمے کی سماعت جج امجد علی شاہ نے کی، جس میں علیمہ خان اور ان کے وکلاء آج بھی عدالت پیش نہیں ہوئے جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان عدالت پیش ہوئے۔
عدالت نے علیمہ خان کو گرفتار کر کے 17 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹ بھی فریز کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
واضح رہے کہ علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف تھانہ صادق آباد میں مقدمہ درج ہے۔ علیمہ خان اور دیگر پر جھلاؤ گھیراؤ اور کار سرکار میں مداخلت کا الزام ہے۔
اس کے علاوہ علیمہ خان اور دیگر ملزمان پر کارکنان کو پُرتشدد احتجاج پر اکسانے کا بھی الزام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علیمہ خان
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔