سیف سٹی کیمروں کا ایک اہم ڈسٹری بیوشن باکس کیسے چوری ہوا؟ کراچی پولیس بھی پریشان
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
کراچی میں بلاول ہاؤس کے قریب سیف سٹی کیمروں کا ایک اہم ڈسٹری بیوشن باکس چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
مذکورہ ڈسٹری بیوشن باکس 6 نومبر کو غائب ہوا تاہم ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود پولیس تاحال اس منفرد چوری کا سراغ نہیں لگا سکی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ڈسٹری بیوشن باکس سیف سٹی کیمروں کو بہتر سروس فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے اور اس کی تنصیب علاقے کی نگرانی کے لیے نہایت اہم تھی۔
Safe City Breach: Distribution Box Stolen Near Bilawal House https://t.
— Online Indus (@onlineindus) November 13, 2025
انہوں نے بتایا کہ باکس کافی اونچا اور وزنی ہے، اسے چوری کرنا آسان عمل نہیں، اس لیے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جارہی ہے تاکہ یہ پتا چل سکے کہ باکس کیسے غائب ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت مفرور ملزم کی پہلی گرفتاری
اسد رضا کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ایک گاڑی کی مدد سے باکس پر کام ہوتا دکھائی دیا تھا، جس سے شبہ ہوتا ہے کہ چوری کی کارروائی کسی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔
ڈی جی سیف سٹی پروجیکٹ آصف اعجاز شیخ نے تصدیق کی ہے کہ ڈسٹری بیوشن باکس میں لاکھوں روپے مالیت کا سامان نصب تھا۔
ان کے مطابق باکس چوری ہونے کے بعد متعلقہ سیف سٹی کیمرے عارضی طور پر اتار لیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: سیف سٹی اسلام آباد شہریوں کو سی سی ٹی وی اینڈ نیٹ ورک ٹیکنیشن کورس کروائے گا
ذرائع کے مطابق حیران کن طور پر سیف سٹی کیمروں اور ان سے منسلک آلات میں کوئی سیکیورٹی یا الارم سسٹم موجود نہیں، جس سے قیمتی سامان کے تحفظ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور ذمے داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسد رضا باکس پولیس چوری ڈسٹری بیوشن سیف سٹی کراچی کیمرے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: باکس پولیس چوری ڈسٹری بیوشن سیف سٹی کراچی کیمرے ڈسٹری بیوشن باکس سیف سٹی کیمروں کے مطابق
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔