کراچی میں بلاول ہاؤس چورنگی کے قریب کیمروں کے لئے لگایا گیا ڈسٹری بیوشن باکس چوری
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
کراچی میں جرائم کی روک تھام کے لیے نصب سیف سٹی سسٹم کے آلات بھی چوروں کے نشانے پر آگئے۔ ڈی جی سیف سٹی پروجیکٹ آصف اعجاز شیخ کے مطابق بلاول ہاؤس چورنگی کے قریب کیمروں کے لیے لگایا گیا ڈسٹری بیوشن بکس چوری کرلیا گیا، جس کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بکس چوری ہونے کے بعد متعلقہ کیمرے بند ہوگئے، جنہیں مزید نقصان سے بچانے کے لیے کھمبوں سے اتار کر محفوظ کرلیا گیا ہے۔ ڈی جی آصف اعجاز شیخ کے مطابق کیمروں سمیت سیف سٹی پروجیکٹ کے آلات کے تحفظ کے لیے پہلے ہی ڈسٹرکٹ پولیس کو ہدایت دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے قیمتی آلات کی چوری تشویشناک ہے، جس سے شہر کے سکیورٹی مانیٹرنگ سسٹم پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔