ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا خصوصی دورہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا خصوصی دورہ کیا جہاں اساتذہ اور طلباء نے اُن کا بھرپور خیرمقدم کیا۔
یونیورسٹی میں منعقدہ نشست میں ملکی سلامتی، داخلی صورتحال، دفاعی اُمور اور پاک فوج کے پیشہ ورانہ کردار پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
نشست کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلباء کو سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈا، مس انفارمیشن اور اس کے اصل حقائق سے آگاہ کیا اور مختلف سوالات کے مدلل جوابات دیے۔
وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے دورے کو سراہتے ہوئے کہا“بھارت کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ہمارے جواب کو دنیا دیکھے گی اور دنیا نے مسلح افواج کے جواب کو بخوبی دیکھا، افواجِ پاکستان نے صرف بھارت اور اس کی فوج کو نہیں بلکہ اس کی ٹیکنالوجی کو بھی شکست دی۔
خصوصی نشست میں شریک اساتذہ و طلباء نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے سیشن کو انتہائی مفید اور موثر قرار دیا۔اساتذہ نے کہا“ہم پنجابی، پٹھان، سندھی یا بلوچ نہیں… سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔“
آج کا سیشن انتہائی معلوماتی تھا، طلباء کے کئی ابہام دور ہو گئے۔طلباء نے بھی بھرپور اعتماد کا اظہار کیا“ڈی جی آئی ایس پی آر نے مس انفارمیشن سے متعلق ہمارے سوالات کے مدلل جواب دیے۔
ہم پاکستانی ہیں، پاک آرمی ہم میں سے ہے۔“ہم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔“نشست میں پاکستان کے ہر ضلع اور تحصیل سے طلباء شریک تھے،سب نے اس سیشن سے بہت کچھ سیکھا۔
دورہ قائداعظم یونیورسٹی میں اساتذہ اور طلباء نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی گفتگو کو قومی یکجہتی، دفاعی شعور اور سچائی تک رسائی کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قائداعظم یونیورسٹی ڈی جی آئی ایس پی آر طلباء نے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔