ایران: بھارتی شہریوں کے لیے ویزہ فری انٹری بند کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کی جانب سے بھارتی شہریوں کیلئے ویزا فری انٹری بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت اور ایران کے درمیان سفری قواعد میں تبدیلی کی گئی ہے، ایران نے بھارتی شہریوں کو ویزا فری انٹری کی سہولت بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران نے یہ اقدام متعدد ایسے واقعات سامنے آنے کے بعد کیا ہے جن میں بھارت کے شہریوں کو ملازمت کے جھوٹے وعدوں یا بذریعہ ڈنکی دوسرے ممالک تک آگے لے جانے کے بہانے ایران بلایا گیا۔
ایران پہنچنے کے بعد ان میں سے بہت سے افراد کو اغوا کرکے تاوان کا مطالبہ کیا گیا، بھارت کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سامنے آنے کے بعد ایران نے عام بھارتی پاسپورٹ رکھنے والے مسافروں کیلئے دستیاب ویزا چھوٹ کی سہولت 22 نومبر سے معطل کر دی۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ اقدام جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے اس سہولت کے مزید غلط استعمال کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔
اب 22 نومبر سے عام بھارتی پاسپورٹ کے حامل تمام افراد کو ایران جانے یا وہاں سے گزر کر تیسرے ملک جانے کے لئے پہلے ویزا حاصل کرنا لازمی ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔